تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 520 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 520

تاریخ احمدیت جلد ۳ 512 خلافت اوٹی کے آخری ایام پہلے آپ نے میاں عبدالحی صاحب کو بلایا اور فرمایا۔لا الہ الا الله محمد رسول الله پر میرا ایمان رہا اور اسی پر مرتا ہوں اور حضرت نبی کریم کے سب اصحاب کو میں اچھا سمجھتا ہوں اس کے بعد میں حضرت امام بخاری کی کتاب کو خدا کی پسندیدہ سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور خدا کا برگزیده انسان سمجھتا ہوں مجھے ان سے اتنی محبت تھی کہ جتنی میں نے ان کی اولاد سے کی تم سے نہیں کی۔قوم کو خداتعالی کے سپرد کرتا ہوں اور مجھے پورا اطمینان ہے کہ وہ ضائع نہیں کرے گا۔تم کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا اور عمل کرنا۔میں نے بہت کچھ دیکھا پر قرآن جیسی چیز نہ دیکھی۔بے شک یہ خدا کی کتاب ہے باقی خدا کے سپردا میاں عبدالحی صاحب کے علاوہ آپ نے صاحبزادی متہ الحی صاحبہ کو پیغام دیا کہ میرے مرنے کے ور میاں صاحب سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں (بھی) درس دیا کریں۔وفات کی خبر کیسے ملی؟ حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو حضرت خلیفتہ المسیح اول کے انتقال کی خبر کیسے ملی اس کی تفصیل کے خود اپنے قلم سے یہ تحریر فرماتے ہیں:۔جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کے لئے میں گھر گیا اتنے میں ایک شخص خان محمد علی خان صاحب کا ملازم میرے پاس ان کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف دانہ ہوا۔ابھی ہم راستہ میں تھے تو ایک نو کر دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفتہ المسیح فوت ہو گئے ہیں اور اس طرح میری ایک پرانی رویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں۔۔آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کی خبر لی ہے۔یہ خبر اس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے بڑھ کر جماعت میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا"۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا بیان ہے کہ "ہم لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میں جمعہ کے بعد جلدی جلدی چل پڑا کہ حضرت خلیفہ اول کی طبیعت معلوم کروں میں اس وقت اس گلی میں سے گزر رہا تھا۔جو اخی المکرم مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان سے اور بعد میں بنے ہوئے قصر خلافت کے ساتھ گزرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی دائیں جانب ایک سکھوں کا مکان ہے جب میں یہاں سے گزر کر سکھوں کے مکان کے مقابل پہنچا ہوں تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اطلاع دی کہ حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے ہیں۔میں نے اس وقت بغیر کچھ سوچنے کے تیزی کے ساتھ بھاگنا