تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 518 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 518

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 510 خلافت ادلی کے آخری ایام کہا۔کہ چونکہ جماعتی اختلاف سے عام طور پر لوگ واقف نہیں۔ایسا اشتہار ٹھیک نہیں۔اس سے دشمنوں کو واقفیت ہو گی اور نسی کا موقعہ ملے گا۔بہتر ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جائے اور اس میں آپ بھی اور میں بھی تقریریں کریں اور لوگوں کو سمجھا ئیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کر دیں۔گو آپ حیران تھے کہ گمنام ٹریکٹوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا جماعت کے اختلاف سے ناواقف ہونا کیا سمنے رکھتا ہے۔مگر آپ نے اللہ ہی کی خاطر یہ اشتہار لکھا تھا اور محض اللہ کی خاطر ہی اس کا شائع کرنا ترک کر دیا۔اور مولوی محمد علی صاحب کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد نور میں تقریر کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔جہاں پہلے آپ نے پھر مولوی محمد علی صاحب نے تقریریں کیں۔مولوی محمد علی صاحب نے گو آخر میں اتفاق کی طرف توجہ دلائی مگر ابتداء میں نہایت تحکمانہ انداز میں پچھلے قصوں کو دہرانا شروع کیا۔اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں اور خوب ڈانٹ پلائی۔عین ممکن تھا کہ لوگ مسجد میں ہی ان سے الجھ جاتے۔مگر حضرت میاں صاحب کی شخصیت کا اثر تھا کہ ان کی اشتعال انگیز تقریر کے باوجود اس وقت فضا مکدر نہ ہوئی۔المختصر آپ نے کھڑے ہو کر اپنے اشتہار کا مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنادیا اور اتفاق پر زور دیا یہ ۱۲ / مارچ کا واقعہ ہے۔علاوہ ازیں آپ نے ان ایام میں اپنے حلقہ احباب میں اکابر علماء کو خاص طور پر یہ تلقین کرنا شروع کی کہ حضرت خلیفتہ المسیح کے انتقال کی صورت میں ہمیں جماعت کے اتحاد کو مقدم رکھتے ہوئے بر کیف کسی کے ہاتھ پر ضرور بیعت کر لینی چاہئے۔قطع نظر اس کے کہ خلیفہ کا تعلق جماعت کے کسی فریق سے ہو۔مگر جہاں تک اپنی ذات کا تعلق ہے۔آپ اس قسم کے شخصی وذاتی سوال پر سوچنا بھی شرعا حرام سمجھتے تھے۔چنانچہ شیخ تیمور صاحب علی گڑھ سے حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے دوران قادیان آئے تو آپ سے بھی ملے۔اور کہا کہ میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر آپ نے اب دیا۔تم کیسی گناہ والی بات کر رہے ہو۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کے متعلق گفتگو کرنا شرعاً بالکل ناجائز اور حرام ہے۔یہ وہ صاحب تھے۔جو اس زمانہ میں آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں جمع کیا کرتے تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ یہ پیشگوئیاں اتنی زبر دست ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ma حضرت خلیفہ اول کی مقدس زندگی کے آخری لمحات حضرت خلیفہ اول کی آخری وصیت گویا ایک بجلی تھی۔جس نے ہر شخص کو ایک لمحہ میں احساس دلا دیا کہ ان کا پیارا آقا اور ان کا محبوب امام جس نے