تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 33
تاریخ احمدیت جلد ۳ 29 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) کہ کثرت مطالعہ اور علمی محنت سے دماغ پر دباؤ پڑ جاتا۔تھوڑے عرصہ کے بعد آپ کے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب بھی بھیرہ میں آگئے اور انہوں نے باضابطہ عربی کی تعلیم دینی شروع کی۔ان کا طریقہ تعلیم نهایت ساده دلچسپ اور موثر تھا۔انہوں نے صرف میں بناؤں اور تعلیلات کا گورکھ دھندا آپ کے سامنے نہ رکھا۔اور آپ نے بہت جلد عربی کے رسائل پڑھ لئے۔پھر جناب الہی کے انعامات میں سے ایک یہ بات بھی پیدا ہوئی کہ ۱۸۵۷ء میں ایک شخص کلکتہ کے تاجر کتب جو مجاہدین کے پاس اس زمانہ میں روپیہ لے جایا کرتے تھے۔آپ کے مکان میں اترے انہوں نے غالبا مولوی سلطان احمد صاحب ہی سے (جو اس وقت آپ کے استاد تھے) آپ کی پڑھائی کی بابت سوال کیا انہوں نے بتایا۔تو اس شخص نے کہا کہ آپ جو اس کو مخلوق کی کتاب پڑھاتے ہیں خدا کی کتاب کیوں نہیں پڑھاتے یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اس نے آپ کو ایک مترجم پنج سورہ جو مطبع مصطفائی کا چھپا ہوا تھا۔دے دیا۔اور مولوی سلطان احمد صاحب نے بھی آپ کو وہی پڑھانا شروع کر دیا۔اس وقت سے آپ کو قرآن مجید کی الفت و محبت پیدا ہو گئی۔اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں۔انہوں نے ترجمہ قرآن کی طرف یا یہ کہنا چاہئے کہ اس گراں بہا جواہرات کی کان کی طرف مجھے متوجہ کیا جس کے باعث میں اس بڑھاپے میں نہایت شادمانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔وہ ذالک فضل الله علينا وعلى الناس وأكثر الناس لا يعلمون"۔انہی دنوں بمبئی کے ایک تاجر کی تحریک سے " تقویتہ الایمان" (مولفہ حضرت سید اسماعیل صاحب شہید اور مشارق الانوار پڑھنے کا بھی موقعہ ملا۔قبل ازیں ایک واعظ غلام محی الدین کے دعظوں میں بیٹھنے کا موقعہ ملتا رہتا تھا اور آپ توحید سے وابستہ ہو چکے۔مگر ان کتابوں سے آپ کے خیالات میں نمایاں انقلاب پیدا ہوا اور آپ عقیدہ توحید میں اور پختہ ہو گئے۔اور باوجودیکہ آپ کے اب وجد چشتی سلسلہ سے منسلک تھے مگر آپ پر توحید کا رنگ چڑھنے لگا۔اور لا اله الا اللہ کا نقش رفتہ رفتہ نمایاں ہو تا چلا گیا۔” مشارق الانوار" کو آپ نے نہایت محنت سے پڑھا اور بہت فائدہ اٹھایا۔آپ کو یوں بھی اردو سے بہت رغبت تھی اور شرک سے نفرت۔اس لئے وہ کتاب بالخصوص آپ کے ذوق کی تھی۔مگر آپ کے خاندان کے دوسرے افراد ان خیالات سے ناواقف ہی تھے۔آپ نے یہ کتابیں خوب غور سے پڑھیں اور تھوڑے دنوں بعد دوبارہ لاہور آگئے جہاں آپ نے حکیم الہ دین صاحب لاہوری سے طب کی کتاب موجز پڑھی۔عربی عبارت نہایت صحیح پڑھانا اور تلفظ میں احتیاط کرنا یہ ان کو ہمیشہ مد نظر رہتا تھا مگر چند روز کے بعد آپ کو پھر بھیرہ آنا پڑا۔