تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 34 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 34

ریت - جلد ۳ 30 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) ۱۸۵۵-۵۶ء میں ترکی دروس کی لڑائی۔۔۔۔۔جاری تھی۔اور جهاد فی سبیل اللہ کا شوق ہندوستان میں ہر روز متوحش خبریں آتی تھیں آپ ان ایام میں اپنے وطن بھیرہ میں تھے اور آپ کے سب بھائی اور بہنیں اور ان کی اولاد سب ایک رات کو اتفاقا گھر میں جمع تھی اور سوائے حضرت مولانا المکرم کے سب شادی شدہ تھے اس لئے گھر بڑا بارونق ہو رہا تھا۔آپ نے والدین سے عرض کیا کہ کس قدر مسلمان مارے جاتے ہیں اور روز مرہ ہزاروں آدمیوں کے مارے جانے کی خبریں آتی ہیں۔آپ کے گھر میں بفضل خدا بہت رونق اور امن ہے۔اگر مجھے خدا کی راہ میں قربان کر دیں تو عین ثواب ہے اتنی بڑی اولاد میں سے ایک کو فی سبیل اللہ دے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔آپ کو خدا کے ہاں سے بڑا اجر ملے گا۔مگر آپ کی والدہ ماجدہ صاحبہ نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں یہ بات کب برداشت کر سکتی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ میرا کفن دفن آپ کریں۔خدا تعالٰی کی غیرت کو دیکھو وہ اپنا کیا کام کر گئی۔تھوڑے دنوں کے بعد والدین ہی کے سامنے باقی اولاد فوت ہونی شروع ہوئی حتی کہ سارا گھر خالی ہو گیا آپ ان دنوں میں جموں میں تھے۔ایک دفعہ موسم گرما میں وطن میں آئے اور ایک کمرہ میں سوئے ہوئے تھے کہ آپ کی والدہ قریب کے کمرہ میں آئیں اور انہوں نے اتنی زور سے انا للہ وانا الیه راجعون پڑھا کہ آپ کی آنکھ کھل گئی۔اور اپنی والدہ ماجدہ کو گھبرایا ہوا اور پریشان دیکھ کر صبر کی ہدایت کی پھر آپ نے والدہ صاحبہ سے عرض کیا کہ اماں جان آپ کو معلوم ہے کہ گھر کیوں ویران اور خالی ہو گیا ہے۔فرمایا کہ ہاں خوب یاد ہے یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو میں نے آپ کی بات کو رد کیا تھا اور اب تو میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میں اس وقت مروں گی جبکہ تو بھی میرے پاس نہیں ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ ذکر آچکا ہے۔راولپنڈی کے نارمل سکول میں داخلہ اور کامیابی قریبا ۱۸۵۸ء میں جبکہ آپ کی عمر اٹھارہ برس کے قریب تھی آپ نے نارمل سکول راولپنڈی میں داخلہ لیا۔منشی محمد قاسم صاحب کی تعلیم کی قدر اس وقت معلوم ہوئی کیونکہ آپ نارمل سکول میں سہ نثر ظہوری اور ابو الفضل کے پڑھنے میں طلباء کے سرتاج تھے مولوی سکندر علی صاحب ہیڈ ماسٹر سکول اتنے خوش ہوئے کہ آپ کی غیر حاضری کو بھی معاف کر دیا۔اس غیر حاضری میں آپ کو یہ فائدہ ہوا کہ حساب اور جغرافیہ پڑھنے کے لئے آپ نے ایک استادر رکھ لیا۔نارمل سکول آپ کے مکان سے دو تین میل کے فاصلہ پر تھا۔مگر اس طرح نارمل سکول کے آنے جانے میں جو وقت صرف ہو تا تھا اب وہ اقلیدس حساب اور جغرافیہ کے لئے مفت بچ جاتا تھا۔تقسیم کسور و مرکب سیکھنے کے لئے آپ نے شیخ غلام نبی صاحب ہیڈ ماسٹرلون سیانی کی خدمات حاصل کر لیں ان کا سیکھنا ہی تھا