تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 32 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 32

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 28 خلیفتہ المسیح انا دل کے حالات زندگی (تحمل از خلافت) آپ کے ایک ہم جولی ( شیخ احمد صاحب برادر اکبر شیخ حکیم فضل احمد صاحب سرکاری ڈاکٹر راولپنڈی) نے آپ سے کہا کہ چلو سبق یاد کریں۔آپ نے فرمایا " یہ تم کیا کہتے ہو۔تم تو محض حکیم بننا چاہتے ہو لیکن میں تو بادشاہ بنوں گا"۔AF • آپ کے وطن میں ٹھیٹھ پنجابی بولی جاتی تھی اور پہلی دفعہ آپ نے ایک ہندوستانی سپاہی کو اردو زبان میں کلام کرتے سنا جسے آپ نے بہت پسند کیا۔آپ کے بچپن کے خاص دوستوں میں حکیم نجم الدین صاحب اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی تھے۔لاہور میں تعلیم کا حصول ۱۲۷۰ھ مطابق ۱۸۵۳ء کے قریب جبکہ آپ کی عمر بارہ برس کی ہوئی آپ کو اپنے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب کے پاس ^^ لاہور میں آنا پڑا۔جنہوں نے کابلی مل کی حویلی میں مطبع قادری کھول رکھا تھا۔یہاں آکر آپ کو خناق کا مرض ہو گیا اور آپ حکیم غلام دستگیر صاحب لاہوری ساکن سید مٹھ کے زیر علاج رہے اس وقت آپ کے دل میں طبی تعلیم کی تحریک پیدا ہوئی مگر آپ کے بھائی صاحب نے آپ کو طب پڑھانے کی بجائے مشی محمد قاسم صاحب کشمیری کے پاس فارسی کی تکمیل کے لئے سپرد کر دیا۔سادہ بڑی محنت سے رزم نرم اور بہار یہ مضامین لکھ دیتے اور حضرت مولوی صاحب سے لکھواتے۔خوشخطی کے استاد مرزا امام ویردی مقرر ہوئے اور مشق کے لئے یہ شعر لکھ کر دیا۔سرنوشت ساز دست خود نوشت خوشنویس است و نخواهد بد نوشت مگر خدا تعالٰی نے آپ کی دماغی صلاحیتیں بہت اعلی و ارفع اور نہایت عظیم الشان مقصد کے لئے پیدا کی تھیں۔اس لئے زبان فارسی سے آپ کی کوئی چنداں دلچسپی پیدا نہ ہوئی اور فن خوشملی سے تو معرا ہی رہے۔اور صرف ا - ب - ج- دچار حروف ہی سیکھ سکے۔البتہ اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ یہ دونوں استاد چونکہ شیعہ مذہب کے پابند تھے (گو مباحثات سے ان دونوں بزرگوں کا تعلق کم تھا) آپ کی معلومات میں شیعہ مذہب کے بارے میں مزید اضافہ ہوا۔قیام لاہور کے اس زمانہ میں آپ کو لاہور کے مشہور منی حکیم اللہ دین صاحب لاہوری (مقیم گئی بازار) سے بھی نیاز حاصل ہوا مگر فارسی اور خوشخطی کے شغل میں آپ ان سے کوئی استفادہ نہ کر سکے!! لاہور سے بھیرہ کو مراجعت دو سال کے بعد آپ ۱۸۵۵ء میں واپس بھیرہ آگئے اور یہاں حاجی شرف الدین سے فارسی کی دوبارہ تعلیم شروع کی مگر طبیعت اب بھی اس زبان سے مانوس نہ ہو سکی۔ہاں عدم دلچسپی کے سبب ایک خوشگوار نتیجہ یہ ضرور بر آمد ہوا کہ سبق یاد کرنے کی محنت سے آپ بچ گئے۔اور قومی خوب مضبوط رہے۔ورنہ عین ممکن تھا