تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 517
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 509 خلافت اوٹی کے آخری ایام اللہ پاک نے فرما دیا ہے۔اور مجھے بھی علم نہیں فرمایا دل کی خواہش کا اظہار کیا ہے یہ بھی نہ سمجھو کہ مجھے کوئی مایوسی ہے "۔اختلافی مسائل کا عام چرچا اور ذاتی حملے یوں تو حضرت خلیفہ اول کی بیماری کی ابتداء سے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء نے اختلافی مسائل کو ہوا دینی شروع کر دی تھی مگر آخری وصیت کے بعد تو خاص طور پر اس کے چرچے ہونے لگے۔حضرت قمر الا نبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔اس طویل بیماری کے ایام میں منکرین خلافت کا پراپیگنڈہ بہت زور پکڑ گیا اور اختلافی مسائل کی بر ملا اشاعت کے علاوہ مویدین خلافت اور خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف ذاتی حملوں نے زیادہ شدت اختیار کرلی۔گویا ان ایام میں لاہوری پارٹی کے زعماء نے ایک آخری جد و جہد اس بات کی کرنی چاہی کہ حضرت خلیفہ اول کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر جماعت کے سواد اعظم کو اپنی طرف کھینچ لائیں۔مگر ایک خدائی تحریک کو اس کے ابتدائی مراحل میں غلط رستہ پر ڈال دینا کسی انسانی طاقت کا کام نہیں اس لئے اس کوشش میں منکرین خلافت کو سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان ایام میں احمدیت کی فضائوں شرر بار ہو رہی تھی کہ گویا ایک میدان جنگ میں چاروں طرف سے گولیاں برس رہی ہوں یہ خدا کا فضل تھا۔کہ حضرت خلیفہ اول کی دور بین آنکھ نے اپنی بیماری کے ایام میں اپنے قدیم طریق کے مطابق اپنی جگہ نمازوں کی امامت اور جمعہ کے خطبات کے لئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مقرر کر رکھا تھا۔ورنہ اگر پریس کے ایک حصہ کے ساتھ ساتھ جماعت کے خطبات کا منبر بھی ان لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا۔تو پھر بظا ہر حالات بڑے فتنہ کا احتمال تھا"۔قیام اتحاد و اتفاق کے لئے حضرت اختلافی مسائل پر جب گفتگو میں حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحبزادہ صاحب کی جدوجہد محمود احمد صاحب نے ایک اشتہار لکھا کہ اب جبکہ حضرت خلیفہ اول سخت بیمار ہیں مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی بحثیں کریں اس کا انجام فتنہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ حضور کو شفا عطا فرمائے اور آپ خودان بحثوں کی نگرانی کر سکیں نہ کچھ لکھا جائے نہ زبانی گفتگو کی جائے۔اشتہار کا مسودہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو بھیجا کہ آپ بھی اس پر دستخط کر دیں تا ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہو اور جماعت فتنہ سے محفوظ ہو جائے مولوی محمد علی صاحب نے اس پر دستخط سے صاف انکار کرتے ہوئے