تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 516
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 508 خلافت اوٹی کے آخری ایام وصیت لکھ کر حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیا کہ وہ سنادیں۔چنانچہ انہوں نے باد از بلند پڑھ کر سنادی۔پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ تین مرتبہ سنادو۔چنانچہ تین مرتبہ ہی انہوں نے اسے پڑھا۔جب وصیت پڑھی جارہی تھی۔حاضرین پر رقت و اضطراب کا ایک درد ناک سماں بندھا ہو ا تھا۔دل اور آنکھیں روتی تھیں۔مولوی محمد علی صاحب تین مرتبہ وصیت سنا چکے تو آپ نے فرمایا کہ نواب صاحب کے سپرد کر دودہ اسے محفوظ رکھیں گے۔چنانچہ مولوی صاحب نے اصل کا غذ نواب صاحب کے سپرد کر دیا۔حضرت نواب صاحب نے دستخط کے لئے یہ وصیت حضور کی خدمت میں پیش کی چنانچہ آپ نے اس پر دستخط کر دئے۔وصیت پر مولوی محمد علی صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے علاوہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بھی بطور گواہ دستخط کئے اور وصیت حضرت نواب صاحب نے محفوظ کر لی۔اگلے روزی اخبار پیغام صلح نے ایک ضمیمہ نکالا۔جس میں اس پوری وصیت کو شائع کرتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب کے وصیت سنانے کا واقعہ بایں الفاظ درج کیا :۔قریب آبجے شام کے حضرت خلیفہ المسیح نے مولوی محمد علی صاحب کو ان کے گھر سے ہلوا بھیجا۔میں ( مراد ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب - ناقل) قریب سوا پانچ بچے کے جب حاضر ہوا۔تو حضرت صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیرا حکم اور حکیم مرہم عیسی صاحب اور شیخ تیمور صاحب ایم۔اے اور اور کثرت سے اصحاب موجود تھے۔حضرت صاحب نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دیا تاکہ وہ دیکھیں کہ پڑھا جاتا ہے کہ نہیں انہوں نے عرض کی کہ سوائے آخری سطر کے سب پڑھا جاتا ہے۔قلم خراب تھی آپ نے اور قلم دوات منگائی اور اس سے نئے کاغذ پر وصیت لکھی۔ہر چند سطور لکھنے کے بعد آپ کا غذ مولومی محمد علی صاحب کو دیتے تھے کہ دیکھیں پڑھا جاتا ہے کہ نہیں۔وہ غرض کرتے تھے کہ اب ٹھیک پڑھا جاتا ہے۔جب وصیت لکھا چکے تو آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا کہ سب کو سنادیں۔انہوں نے کھڑے ہو کر سب سامعین کو باد از بلند ستاد یا۔پھر وہ بیٹھ گئے آپ نے فرمایا کہ تین دفعہ پڑھو۔چنانچہ پھر مولوی صاحب نے اٹھ کر دوبار اور پڑھ کر حاضرین کو سنا دیا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ کوئی اور ضروری امرا گر رہ گیا ہو تو بتا دیں۔میں لکھ دوں۔مولوی محمد علی صاحب و جمله احباب نے عرض کی کہ اور کوئی ایسا امر نہیں۔اس کے بعد آپ نے وہ کاغذ نواب محمد علی خان صاحب کو دے دیا۔فرمایا۔محفوظ رکھیں (یعنی امانت کے طور پر) پھر فرمایا۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں لکھ سکتا۔اور نیچے "۴ / مارچ ۱۹۱۴ء بعد از اعلان" بھی لکھ دیا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔جیتے رہے تو پھر دیکھا جائے گا۔پھر فرمایا۔موت حیات کی کوئی خبر نہیں۔"