تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 513 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 513

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 505 خلافت اوٹی کے۔نہیں تھے۔چنانچہ انہوں نے ڈائننگ ہال کی میزوں کو اوپر نیچے رکھ کر ایک اڈہ سا بنایا۔تاکہ چار چار آدمی آپ کی چار پائی لے جائیں اور اس تمام تر کوشش کا در پردہ منشاء یہ تھا کہ حضرت خلیفہ اول کو ایسی جگہ رکھا جائے جہاں پر عوام الناس نہ جا سکیں خاص پہرہ بھی ان کے لئے تجویز کیا گیا۔اور طے پایا کہ یہ پہرہ دار صرف ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دیں جن کو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب یا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پسند کریں۔اول تو حضرت خلیفہ اول کی چارپائی کو ان میزوں کے اوپر رجہ اٹھا کر لے جانے میں یہ خطرہ تھا کہ ایک آدمی کا ہاتھ پھسل جانے سے حضور یقینی طور پر زمین پر آگر تے۔دوسرے وہ جگہ بھی مناسب نہ تھی تیسرے اس جگہ بھی کھانے کا تسلی بخش انتظام نہ تھا۔غر منکہ اس خطرناک منصوبہ کی اطلاع کسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو مل گئی آپ مشوش ہوئے اور آپ نے حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب سے اس کا ذکر کیا۔جس پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضور کی خدمت میں اپنی کو ٹھی میں تشریف لے جانے کی درخواست کی۔کھانا چند دن پہلے ہی آپ کے گھر میں جاتا تھا۔اب حضور نے اس پیشکش کو بھی بڑی خوشی سے قبول فرما لیا اور آپ کی طبعیت میں خوشی کی ایک بری دو ڑ گئی۔چنانچہ جب آپ کو کو ٹھی کی طرف لے جانے کا وقت آیا تو دوسرے دوستوں کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب بھی پہنچے گھر سے ڈولی اٹھانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کا یہ پختہ ارادہ تھا کہ کسی ترکیب سے حضرت خلیفہ اول کو بورڈنگ میں رکھ لیا جائے۔چنانچہ جب۔۔۔ڈولی بورڈنگ تک پہنچی۔تو چار پائی وہاں روک لی گئی۔حضرت خلیفہ اول نے نظر اٹھا کر دیکھا تو حسرت سے فرمایا۔کہ ہیں یہ اس جگہ مجھے لا رہے ہیں"۔حضرت مرزا شریف صاحب نے اونچی آواز سے کہا کہ حضور یہ صرف چلنے والوں کو آرام دینے کے لئے روکا ہے۔ورنہ آپ نواب صاحب کی کوٹھی پر ہی جارہے ہیں۔اس سے حضرت خلیفتہ المسیح کو تسلی ہوئی اور خفیہ منصوبہ رکھنے والے اس کی تردید کی جرات نہ کر سکے اور ان کو اپنے ناپاک ارادہ میں بری طرح ناکامی ہوئی۔اس حقیقت کو چھپانے کے لئے اخبار پیغام صلح نے مندرجہ ذیل خبر شائع کی کہ " تیسرے پھر نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی میں چند روز کے لئے تبدیلی آب و ہوا کے لئے تشریف لائے۔پہلے جناب کا ارادہ بورڈنگ ہاؤس کے بالا خانہ پر تشریف رکھنے کا تھا مگر چونکہ وہاں چڑھنے میں دقت تھی۔نواب صاحب کی درخواست پر نیز طبی رائے پر جناب نواب صاحب کے ہاں تشریف لے گئے "۔حضرت خلیفہ اول کو کو بھی کے باہر کے شمالی کمرہ میں رکھا گیا اور باقی سب بیرونی کمرے مہمانوں کے