تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 514
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 506 خلافت اولی کے آخری ایام لئے خالی کرادئے گئے۔کوٹھی چونکہ کافی وسیع تھی۔حضرت خلیفہ اول اور آپ کے خاندان اور آنے والے مہمانوں کے لئے کو ٹھی میں ہی کھانا تیا ر ہو تا تھا۔حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بھی شب و روز کو ٹھی میں رہنے لگے اور آپ کا اکثر وقت حضور کی خدمت میں گزرتا تھا۔کو ٹھی میں آنے کے دوسرے دن بعد حضور نے حضرت نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مکان بہت خوب۔ہے اس میں مجھے بہت آرام ہے۔خدا آپ کو جزائے خیر دے اسی روز سے آپ نے بدستور قرآن مجید کے نوٹ سننے شروع کئے۔مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور پچیسواں پارہ ختم ہو گیا ہے۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر کہا۔تیرا فضل تیرا کرم۔پھر فرمایا۔مجھ پر تو خدا تعالی کی رحمت کے عجیب عجیب بادل چڑھتے ہیں اور مجھ پر برستے ہیں۔اس بہار کی پھوہار کو میں ہی سمجھتا ہوں۔یکم مارچ کو آپ کی طبیعت نسبتا اچھی رہی۔۲/ مارچ کو آپ نے سورہ محمد کی تفسیر کے دوران میں مولوی محمد علی صاحب کو اپنی تفسیر میں یزید کا ذکر کرنے کی نصیحت فرمائی۔اس دن آپ کو ضعف or کی سخت شکایت ہو گئی۔جس کا سلسلہ اگلے دنوں میں اور زیادہ تشویشناک صورت اختیار کر گیا۔حضرت خلیفہ اول کی وصیت ۱۴ مارچ کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اول کو یکایک ضعف محسوس ہونے لگا۔اسی وقت آپ نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو قلم دوات لانے کا حکم دیا۔چنانچہ وہ قلم دوات اور کاغذ لے آئے اور پ نے لیٹے لیٹے کا غذ ہاتھ میں لیا اور مندرجہ ذیل وصیت لکھی۔بسم الله الرحمن الرحيم - نحمد و نصلی علی رسوله الكريم وآله مع التسليم خاکسار بقائمی جو اس لکھتا ہے۔لا اله الا الله محمد رسول اللہ۔میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے ان کی پرورش۔۔۔تمامي ومساکین سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جاوے۔لائق لڑکے ادا کریں یا کتب جاندار و قف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو ہر دلعزیز۔عالم باعمل ہو حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے مطلوک۔چشم پوشی۔درگزر کو کام میں لادے۔میں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام۔كها