تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 512
تاریخ احمد بیست جلد ۳ 504 خلافت اولی کے آخری ایام غصہ کے جذبات تھے آپ نے فرمایا۔” میرا دل بہت جلایا گیا۔میں اس وقت بوڑھا ہوں کیا یہ مجھ کو دکھ دینے اور تکلیف دینے کا وقت تھا۔یہ تو مجھ سے محبت کرنے کا وقت تھا۔مجھے اس وقت راضی کرنا چاہئے تھا۔فرمایا۔میری دعاؤں کو اللہ تعالی سنتا ہے اور میں خوب جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعا ئیں وہ سنتا اور قبول کرتا ہے۔میں اس وقت رویا ہوں اگر میری غضب کی آنکھ ہوتی تو کھا جاتی۔پھر اس سلسلہ میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔آپ اس کو لائے آپ نے اس کی معافی کرائی لیکن آج تک اس کی تلافی نہیں ہوئی۔قرآن مجید فرماتا ہے من تاب و اصلح فاجرہ علی الله مگر اس نے کوئی اصلاح نہیں کی۔کوئی تلافی نہیں ہوئی نہ آپ نے اصلاح کرائی نہ تلافی کرائی"۔پھر فرمایا وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے خلیفہ مقرر کر دیا ہے۔غلط ہے مجھے کیا علم ہے کہ کون خلیفہ ہو گا اور کیا ہو گا۔کون خلیفہ بنے گایا مجھ سے بہتر خلیفہ ہو گا۔میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا۔میں ۱۴۴ کسی کو خلیفہ نہیں بنا تا میرا یہ کام نہیں۔خلیفے اللہ ہی بناتا ہے میرے بعد بھی اللہ ہی بنائے گا۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی آپ کو الہاما بتایا گیا کہ پانی ہوا آگ اور پانی کے کو ٹھی (دار السلام) میں منتقل ہونا ملاپ میں علاج ہے۔اس غرض کے لئے آپ نے شہر سے باہر کھلی فضا میں منتقل ہونے کا فیصلہ فرمایا۔یہی مشورہ ڈاکٹروں کا تھا۔اس پر ۲۷/ فروری بعد نماز جمعہ آپ ڈولی میں بیٹھ کر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی دار السلام میں تشریف لے گئے رستہ میں بورڈنگ ہاؤس کے پاس طلباء نے آپ کا استقبال کیا اور عرض کیا۔السلام علیکم یا امیرالمومنین۔اس پر آپ نے ڈولی کو ٹھہرایا اور بچوں کے لئے درد دل سے دعا مانگی۔اور مولوی محمد علی صاحب کو بلوایا۔وہ پاس نہ تھے۔اطلاع ہونے پر مسجد نور کے قریب ملے۔کوٹھی میں پہنچ کر ان کو ارشاد فرمایا۔کہ مجھے تو وہ (اللہ تعالٰی) بہت ہی پیارا ہے۔دو کام بتائے ہیں۔تواضع اور خاکساری اور اس کی بچوں کو فوری طور پر تاکید کرو۔ہر لڑ کا خیرات دے۔ہر لڑ کا استغفار کرے مجھے معلوم ہوا ہے کہ طاعون بھی آتی ہے۔پھر فرمایا۔یہ کام ابھی کرنا ہے چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے مغرب کی نماز کے بعد بچوں کو نصیحت پہنچائی۔در اصل مولوی صدر الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب چاہتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول کو ہائی سکول کے بورڈنگ کی اوپر کی جنوبی منزل میں لے جایا جائے۔اور اس غرض کے لئے بعض تبدیلیاں بھی عمارت میں کروا دیں۔سیڑھیاں گول تھیں اور حضرت خلیفہ اول بیٹھنے کے قابل بھی