تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 511
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 503 خلافت اولی کے آخری ایام دعائیں کریں یہی کافی ہے۔10 اس عالم میں ۱۴ / فروری کو فرمایا۔بول تو میں سکتا ہوں۔خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا۔درس کا انتظام کرو کہ میں قرآن مجید سنادوں۔پھر اپنے گھر والوں کو تلقین فرمائی کہ دکھوں میں کبھی نہ گھبرائیو۔لا الہ الا اللہ کا ورد رکھیو اپنے محسن نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتی رہیو۔نیز فرمایا۔جو لوگ مجھے مسلمان نہیں سمجھتے انہیں کیا معلوم کہ نورالدین کا آخری وقت میں بھی لا اله الا اللہ پر ایمان تھا۔فرمایا۔میرا دل خوش ہے۔میں مطمئن ہوں اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور محمد رسول اللہ جیسا عظیم الشان ( خاتم کمالات رسالت) میرا ہادی۔پھر فرمایا کہ شاعر اور مصور واقعات کی تصویر کھینچ دیتے ہیں مگر حضرت رب العزت نے مدینہ پر احزاب کی چڑھائی کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کا منظر ایک شاعر یا مصور کی کیا طاقت کہ دکھا سکے۔یہ فرما کر آپ پر رقت طاری ہو گئی۔۱۵ فروری کو بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لاہور سے ایک یورپین ڈاکٹر ملول کو لے کر پہنچے انہوں نے معائنہ کیا اور بتایا کہ دل، پھیپھڑا ٹھیک ہے نبض بھی اچھی ہے البتہ معدہ میں کچھ قصور ہے۔اور بڑھاپے کی وجہ سے اعصاب میں کمزوری ہے۔اس کے بعد دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ کے بعد قریب رہی نسخہ تجویز کیا جو پہلے سے زیر استعمال تھا۔ڈاکٹر ملول نے آپ کا مزاج پوچھا۔فرمایا میں تو اچھا ہوں ڈاکٹروں نے لٹا دیا ہے۔پھر فرمایا مجھے موت کا کوئی غم اور خوف نہیں۔ان الفاظ سے اتنی طمانیت اور جوش ٹپکتا تھا کہ ڈاکٹر بھی دنگ رہ گیا۔☑ ۱۸ فروری کو پہلی کے درد سے آپ کی طبعیت بہت زیادہ کمزور ہو گئی مگر اس کے بعد قدرے افاقہ رہا۔۱۹ / فروری کو حضرت ام المومنین اور دیگر مستورات حضرت اماں جی کے ساتھ آپ کی عیادت کو حاضر ہو ئیں۔حضرت ام المومنین کے سلام کے جواب میں آپ نے فرمایا۔و علیکم السلام ورحمة الله عليكم اهل البيت وعلى ابنائكم و بنا تکم۔آپ اس وقت کچھ چشم پر آب بھی ہو گئے۔آپ کے گھر والوں نے عرض کیا کہ کیا آپ گھبرا گئے فرمایا میں بالکل نہیں گھبرایا۔میں موت سے نہیں ڈرتا خدا سے ڈرتا ہوں۔خدا راضی ہو جائے تو سب کچھ پالیا۔چپ اس لئے ہوں کہ بولنے سے تکلیف ہوتی ہے۔۲۱ فروری کو آپ کی مجلس میں لاہور کا ذکر آیا۔جس پر آپ کو گمنام ٹریکٹوں کا خیال آیا اور اس نے آپ کی طبعیت کو مکدر کر دیا۔اور نہایت برہم ہو کر فرمایا۔" میں تو لاہور کو جانتا نہیں وہ ایسا قصبہ ہے کہ جہاں سے مجھ کو ایسے بڑھاپے میں اس قدر تکلیف پہنچی۔اس ٹریکٹ کی یاد سے آپ کو بہت رکھ ہوا۔اور ان سے آپ نے بے حد بیزاری کا اظہار فرمایا۔آپ کی آنکھیں پر نم اور آواز میں غم و