تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 31
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 27 خلیفہ المبیع الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) کریم بخش صاحب اور ان کے بیٹے حاجی شرف الدین صاحب سے پڑھا۔اس وقت کے سکولوں میں طلبہ کی کثرت نہ ہوتی تھی جیسا کہ اب ہے آپ کے استاد ایک خاص رنگ کے آدمی تھے وہ دس لڑکوں کو ملا کر سبق نہ پڑھاتے بلکہ ایک ایک لڑکے کو باری باری الگ الگ سبق دیتے تھے۔جو زیادہ خدمت کرتا اسے زیادہ اور عمدہ سبق پڑھ لینے کا موقعہ ملتا اور جو کم خدمت کرتا اسے کم موقعہ ملا۔مدرسہ کا ماحول بھی پاکیزہ اور ستھرا تھا۔جہاں بچپن میں آپ نے اسلام کے خلاف کوئی بات نہ دیکھی نہ نماز کی طرف رغبت مکتب کی پڑھائی کے دوران سے ہی شروع ہو گئی تھی۔اور آپ کے استاد دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کو نماز پڑھنے کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک لڑکے نے وضو کر لینے کے بعد سب کو مخاطب کر کے کہا کہ نماز کون پڑھتا ہے یہ کہہ کر اس نے اپنی پیشانی ایک کچی دیوار سے رگڑی جس سے مٹی کا نشان ماتھے پر نظر آنے لگا۔(یہ شخص بعد میں شہر کا اول نمبر چور بنا اور کیفر کردار تک پہنچا) اس طرح اس نے سب لڑکوں کو نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے کی انکل سکھانے کی کوشش کی مگر آپ پر اس کا نہ صرف ذرہ برابر اثر نہ ہوا بلکہ نماز کے ساتھ آہستہ آہستہ دعاؤں کا ذوق و شوق بھی دل میں پیدا ہو گیا۔ایک دفعہ کسی ضرورت کے پیش آنے پر آپ نے استاد سے پوچھا کہ کیا تدبیر کروں اس نے جواب دیا کہ افسوس ! میرے پاس اس مطلب کے حصول کے لئے کوئی عمل نہیں ہے اس پر خدا نے آپ کی راہ نمائی فرمائی اور آپ سے کہا آؤ عقد ہمت سے کام لیں اور دعا کریں۔جس پر آپ کا یہ مطلب عشاء کے وقت ہی پورا ہو گیا۔استاد نے اس سے یہ یقین کر لیا کہ آپ کوئی عمل جانتے ہیں؟ مدرسہ کے زمانہ ہی سے جبکہ آپ کے سن تمیز کا آغاز نہیں ہوا تھا کہ آپ کو کتابوں کا شوق دامن گیر ہو گیا اور بچپن میں جلد کی خوبصورتی کے سبب کتابیں جمع کرنے لگے اور یہی دراصل آپ کے لڑکپن کی دلچسپی کا سامان تھا۔ورنہ آپ عمر بھر کبھی کوئی کھیل نہیں کھیلیے آپ نے صرف ایک ہی کھیل کھیلا ہے اور وہ تیرنا ہے آپ کو تیر نا خوب آتا تھا۔بعض اوقات بڑے بڑے دریاؤں میں بھی تیرتے رہے ہیں۔آپ کو بچپن ہی سے گھوڑے کی سواری کا شوق تھا خود فرماتے ہیں۔"ہم چھوٹے تھے ہمارے والد صاحب لگام چھپا دیتے تھے تا چھوٹے بچے تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر گر نہ جائیں مگر ہم گھوڑے کے گلے کی رہی ہی سے ان کو چلا لیتے تھے۔آپ کے سامنے آپ کے ہم جولیوں نے کبھی گالی نہیں دی۔بلکہ آپ کو دور سے دیکھ کر بہت محتاط ہو جاتے اور آپس میں کہا کرتے تھے کہ یا روا سنبھل کر بولنا بچپن ہی سے آپ کی گفتار و کردار سے غیر معمولی اولوالعزمی اور علو ہمتی ٹیکتی تھی۔ایک دفعہ