تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 491
ربیت - جلد ۳ 483 اخبار " الفضل "ا العزة فلله العزة جميعا - کسی انسان کی زندگی کا بھی اعتبار نہیں ہوتا۔مگر میں تو خصوصا بیمار رہتا ہوں اور ہر چوتھے پانچویں دن مجھے حرارت ہو جاتی ہے اور سخت سردرد کا دورہ ہوتا ہے چنانچہ اس وقت بھی جب کہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں۔میرے سر میں درد ہے اور بدن گرم ہے۔اور صرف خدا ہی کا فضل ہے کہ میں یہ چند سطریں لکھنے کے قابل ہوا ہوں اور علاوہ ازیں مجھے اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔میرا سینہ کمزور ہے میرا جگر بیمار ہے۔میرا معدہ اچھی طرح غذا ہضم نہیں کر سکتا۔تمہیں کیا معلوم ہے۔کہ میں کل تک زندہ رہوں گا یا نہیں۔کیا جانتے ہو کہ نیا سال مجھے پر چڑھے گایا نہیں۔تم کیوں خواہ مخواہ یوسف کے بھائیوں کی طرح کہتے ہو۔یخل لكم وجه ابیکم میرے تو اپنے پیارے دوسری دنیا میں ہیں۔میرے لئے تو یہ دنیا خالی ہے۔میر امحمد اس دنیا میں ہے میرا احمد اسی دنیا میں ہے کیا وہ لوگ زندہ رہے کہ میں رہوں گا۔میرے پاس اعمال کا ذخیرہ نہیں اور میرا ہاتھ خالی ہے۔لیکن خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ وہ مجھے ان کے خدام میں جگہ دے کیونکہ ان کے قرب کے بغیر جنت بھی میرے لئے بھیانک ہے۔میں تم سے گھبراتا نہیں۔میں تمہارے حملوں سے ڈرتا نہیں۔کیونکہ میرا خدا پر بھروسہ ہے لیکن مجھے اگر غم ہے تو اس بات کا کہ قوم میں فتنہ نہ ہو۔اور یہی غم میرے دل کو کھائے جاتا ہے مگر مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو بچائے گا اور اس کی مدد کرے گا۔کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگا کر پھر اسے سوکھنے دے۔ہاں اتناء کے ایام ہیں جو گزر جائیں گے۔وا اسفا على فراق قوم المصابيح ہائے افسوس اس قوم کی جدائی پر جو شمع کی طرح تھے اور قلعوں کی طرح تھے۔والمدن و المزن و الرواسي والخير لم والامن اور شہر تھے اور بارش تھے اور پہاڑ تھے اور خیر تھے اور امن تھے اور سکون تھے۔تتغير لنا الليالي حتى توفاهم ہمارے لئے زمانہ نہیں بدلا۔مگر جب موتوں نے ان کو وفات دے دی۔فكل جمرلنا قلوب والحصون والسكون المنون وكل ماء لنا عيون اب تو یہ حال ہے کہ دل انگارہ ہیں اور آنکھیں بہہ رہی ہیں۔افوض امرى الى الله - وهو ولى فى الدنيا والاخرة وانما اشکوا بثی و خزنی الی الله اللهم انى اعوذ بك من جهدا البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء وشماتة الاعداء واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين - A