تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 492
ریخ احمدیت جلد ۳ سفرملتان 484 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح کا " کا اجراء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آخر نومبر ۱۹۱۳ ء میں جلسہ میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔۲۷/ نومبر کی شام کو جب یہ قافلہ حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں اجازت کے لئے حاضر ہوا۔تو آپ نے سب کو دعا کے ساتھ رخصت کیا اور فرمایا۔” میں نے بہت دعا کی ہے ملتان میں شیعہ بہت ہیں پر تم چار یار وہاں جاتے ہوئے نرمی سے وعظ کرو سخت کلامی نہ کرو۔دعاؤں سے بہت کام لو۔امیر بنا بنا یا تمہارے ساتھ ہے"۔ملتان میں آپ نے ۳۰ / نومبر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی مسیحیت و مهدویت پر معرکتہ الا را تقریر فرمائی اور آپ کی تقریر کے بعد تیرہ اشخاص داخل احمدیت ہوئے اور شہر میں ہر طرف احمدیت کا چرچا ہونے لگا۔ملتان کے رئیس اعظم خان بہادر مخدوم حسن بخش صاحب نے اپنی گزشتہ روایات کے عین مطابق حضرت صاجزادہ صاحب اور آپ کے رفقاء کی دعوت کی۔اخبار "بدر" کی بندش اخبار بد رجسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک بازو قرار دیا تھا۔عیسائیت کے خلاف مضمون لکھنے کی پاداش میں بند ہو گیا۔پریس ایکٹ کے ماتحت پبلشر کے نام تین ہزار کی ضمانت طلب کی گئی جو ادانہ کی جاسکی۔بدر کا آخری پرچہ ۱۸ دسمبر ۱۹۱۳ء کو شائع ہوا۔اس کے بعد حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے (جو بدر کے ایڈیٹر تھے) فروری ۱۹۱۴ء میں صدائے صادق ٹریکٹ سیریز کا ایک سلسلہ جاری کیا جو چند نمبروں کے بعد ختم کر دیا گیا۔خلافت اولیٰ کے عہد کا آخری سالانہ جلسہ مجلس معتمدین نے ۱۹۱۳ء کے جلسہ سالانہ کے بارہ میں فیصلہ کیا کہ وہ صرف ۲ دن ہو عمر حضرت خلیفتہ المسیح اول نے یہ فیصلہ منسوخ کر کے یہ حکم دیا کہ جلسہ ۲۶ سے ۲۸ دسمبر تک رہے گا۔چنانچہ اسی کے مطابق تین دن پوری شان سے یہ جلسہ منعقد ہوا یہ خلافت اوٹی کے عہد کا آخری سالانہ جلسہ تھا۔حضرت خلیفہ اول کی تقریریں : حضرت خلیفہ اول کی دو ایمان افروز تقریریں ہوئیں۔پہلی تقریر ۱۲۷ د سمبر کو ہوئی جو وحدت کے موضوع پر تھی۔دوسری تقریر سورہ مومنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر پر۔علاوہ ازیں آپ نے ۲۶/ دسمبر کو ایک لطیف خطبہ جمعہ بھی ارشاد فرمایا۔جس میں قرآن مجید کی طرف توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔مومنوں کو آپ نے اپنے ایوان میں شرف ملاقات بخشا اور اپنے کلمات طیبات سے نوازتے رہے۔