تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 490 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 490

تاریخ احمد بیت جلد ۳ 482 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء مجھے وہ سبیل بتاؤ۔جسے میں اختیار کروں۔آخر میں انسان ہوں خدا کے پیدا کئے ہوئے دو راستوں کے علاوہ تیرا راستہ میں کہاں سے لاؤں؟ صبح شام رات دن اٹھتے بیٹھتے یہ باتیں سن سن کر میں تھک گیا ہوں۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے اور آسمان باوجود رفعت کے میرے لئے قید خانہ کا کام دے رہا ہے اور میری وہی حالت ہے کہ ضاقت عليهم الارض بما رحبت و ضاقت عليهم انفسسهم و ظنوا ان لا ملجا من الله الا اليه - افسوس کہ میرے بھائی مجھ پر تہمت لگاتے ہیں اور میرے بزرگ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب آدمی بستا ہے مگر مجھے تو سوائے خدا کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔لوگ اس دنیا میں تنہا آتے اور یہاں سے تنہا جاتے ہیں مگر میں تو تنہا آیا اور تنہا رہا اور تنہا جاؤں گا۔یہ زمین میرے لئے ویران جنگل ہے اور یہ بستیاں اور شہر میرے لئے قبرستان کی طرح خاموش ہیں۔میرے دوست مجھے اس وقت معاف فرما ئیں۔میں ان کی محبت کا شکر گزار ہوں۔لیکن میں کیا کروں کہ جہاں میں ہوں وہاں وہ نہیں ہیں۔میں ان مہربانوں کے مقابلہ میں جو مجھے آئے دن ستاتے رہتے ہیں ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔اپنے رب سے ان پر فضل کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔لیکن باوجود اس کے میں تنہا ہوں۔میری مثال ایک طوطے کی ہے جس کا آقا اس پر مہربان ہے۔اور اس سے نہایت محبت کرتا ہے اور طوطا بھی اس کے پیار کے بدلہ میں اس سے انس رکھتا ہے اور اس کی جدائی کو نا پسند کرتا ہے مگر پھر بھی اس کا دل کہیں اور ہے اس کے خیال کہیں اور ہیں۔میرے آقا کا دلبند میرا مطاع امام حسین تو ایک دفعہ کربلا کی ابتلا میں مبتلا ہوا۔لیکن میں تو اپنے والد کی طرح یہی کہتا ہوں کہ کربلا نیست میر ہر آئم صد حسین است در گریبانم اے نادانو ! کیا تم اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر میرا خدا مجھے بڑا بنانا چاہے تو تم میں سے کون ہے جو اس کے فضل کو رد کر سکے۔اور کون ہے جو میرے مولیٰ کا ہاتھ پکڑ سکے۔وان یردک بخیر فلار آد لفضله يصيب به من يشاء من عباده ، و هو المغفور الرحیم۔اور اگر وہ عزت دینا چاہے تو کون ہے جو مجھے ذلیل کر سکے۔اور اگر وہ مجھے بڑھانا چاہے تو کون ہے جو مجھے گھٹا سکے اور اگر وہ مجھے اونچا کرنا چاہے تو کون ہے جو مجھے نیچا کر سکے۔اور اگر وہ مجھے اپنا قرب عطا کرنا چاہے تو کون ہے جو مجھے اس سے بعید کر سکے۔اور اگر وہ مجھے اپنے پاس بٹھائے تو کون ہے جو مجھے اس سے دور کر دے۔پس اپنے آپ کو خدامت قرار دو کہ عزت دینا اور ذلیل کرنا خدا کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے۔من كان يريد