تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 462 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 462

خ احمدیت۔جلد ۳ 454 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء آدمی پکڑے گئے۔جو مسلمان زخمی ہوئے انہوں نے برملا کہا مولویوں نے ہمیں برس کا کر خراب کیا تھا۔مسلمانان کانپور نے بعد میں وائسرائے ہند کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا جس میں کہا کہ ہم ان لوگوں کی کارروائی کو ملامت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں جنہوں نے اینٹوں کے پھینکنے سے قانون کی خلاف ورزی کی یا کسی اور طریقہ سے خلاف قانون طرز عمل اختیار کیا۔ہم حضور والا کو یقین ولاتے ہیں کہ مسلمانان کانپور ہزامپریل میجسٹی شہنشاہ معظم کی انتہا درجہ کی قانون پر چلنے والی اور وفادار رعایا ہیں "۔یہ ہے سانحہ کانپور کی تفصیل جسے ابتدائی مرحلہ سے ہی بعض مسلمان اخباروں نے اچھالنا شروع کیا اور کانپور کے مسلمانوں کو اکسا اکسا کر ان کو آمادہ فساد کرتے رہے۔اس آگ کو سب سے زیادہ ہوا دینے والے مولانا ابو الکلام آزاد تھے۔جنہوں نے "الحلال" کے صفحے کے صفحے اس کے لئے وقف کر دئے اور متعدد تصاویر شائع کیں۔اخبار " الفضل " نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی راہ نمائی اور مشورہ سے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ "رسول کریم کے زمانہ میں غسل خانہ وضو خانہ اور پاخانہ مساجد میں نہ ہوتے تھے۔پھر غسل خانہ کو مسجد کا حصہ کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔اور وضو خانہ اس کا حصہ کیونکر قرار پا سکتا ہے؟ یہ موقف چونکہ اخبار "الحلال" اور "پیغام صلح" کی طرف سے خلیفہ رجب الدین صاحب کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھیجا گیا تا آپ کی تحریری رائے حاصل کی جائے اس پر حضرت خلیفہ اول نے ۶/ اگست ۱۹۱۳ء کو ایک تحریر لکھی جو پیغام صلح (مورخہ ۱۰/ اگست صفحه ۲ د ضمیمه ۲۴/ اگست ۱۹۱۳ء صفحہ ۵) میں بایں الفاظ شائع ہوئی۔" میرا مذ ہب یہ ہے کہ جس سلطنت کے ماتحت ہم رہیں اس کے خلاف نہ کریں۔اس کے حضور آرام کی درخواستیں کرتے رہیں۔اگر وہ مان لے تو سبحان اللہ۔اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے اگر نہ مانے تو اس کے ملک سے نکل جائیں۔حضرت قرآن مجید نے ارشاد فرمایا ہے کہ نبی کریم "موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا۔قوم کو صبر کا حکم دیا۔واصبروا ان العاقبة للمتقين - آخر درخواست کی ہے۔ارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبهم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو اور ان کو آپ دکھ نہ دیں۔حضرت نبی کریم خاتم النبین صلے اللہ علیہ و آلہ اجمعین نے تیرہ برس مکہ معظمہ میں تکالیف کو برداشت فرمایا۔سمیہ کو سختی سے قتل کیا گیا۔زنیرہ کو مار ڈالا۔یا سر کو نہایت بے رحمی سے قتل کر دیا۔آخر آپ نے اپنے پہلے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا۔پھر آخر آپ خود مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر گئے۔یہ ہے میرا مذ ہب۔اس پر عمل درآمد ہے۔رہا پیسہ اخبار یا اہل حدیث یا ان کے برادران خورد و بزرگ - سویہ لوگ ابتداء سے اس وقت تک ہمارے دشمن رہے ہمارا کیا بگاڑا جو اب بگاڑیں گے بے ریب کانپور