تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 463
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 455 اخبار الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء " کے حکام باختیار کی غلطی ہے کہ مندر کو بچایا اور مسجد کو گرایا اور آخر گولی چلانے کا حکم دیا۔عمدہ ترا بیرو عاقبت اندیشی سے کام نہ لیا۔مگر ایسے حکام کے متعلق قرآن مجید کا حکم صاف ہے و کذالک نولی بعض الظالمين بعضا۔مسلمان خود مسلمان ہوں تو ان پر ایسے حکام کیوں ہوں یہ ہے میرا ایمان غالبا آپ سمجھ گئے ہیں اس کے خلاف کرو گے تو ہم آپ سے بیزار ہیں"۔اس فتویٰ کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کی نظر ثانی سے الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۱۳ء میں ایک مضمون بھی شائع ہوا۔جس میں اس تمام تر ہنگامہ آرائی کی ذمہ داری شعلہ بیان لیکچراروں اور آتش مزاج ایڈیٹروں پر ڈالی اور مسلمانوں کو تلقین کی گئی کہ اسلام بغاوت اور حکام کے مقابلہ کو منع کرتا ہے۔مسلمانوں کا فرض تھا کہ حکام کی خلاف ورزی کی بجائے اطاعت کرتے۔اگر حکام ظالم تھے تو یقین رکھتے کہ ایک حی و قیوم خدا ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کافی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے اس مضمون پر یہ تحریر فرمایا۔" جزاک اللہ احسن الجزاء خوب لکھا ہے کچھ زائد شائع کر دو۔اب مسئلہ بالکل واضح تھا اور مسجد کان پور کے نام پر شورش اٹھانے والوں سے ہم نوائی کی کوئی وجہ جو از اس سے نہیں نکل سکتی تھی۔مگر مولوی محمد علی صاحب نے پورے فتویٰ کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے صرف اس فقرہ کو لے کر کہ "بے ریب کانپور کے حکام باختیار کی غلطی ہے کہ مندر کو بچایا مسجد کو گرایا"۔تین لمبے لمبے مضمون پیغام صلح میں شائع کئے۔جس میں وضو خانہ کو مسجد ہی کا حصہ قرار دیا اور اس سے الحلال کی تحریک کو بے حد تقویت پہنچی۔مولوی محمد علی صاحب کو احمدیوں نے توجہ دلائی کہ قادیان میں دو مسجدوں کے غسل خانے کسی اور مصرف میں لائے جاچکے ہیں۔اس لئے آپ کا استدلال صحیح نہیں ہے۔جس پر مولوی صاحب نے پیغام صلح میں ایک مراسلہ لکھا جس میں عجیب و غریب تاویلات کیں اور لکھا کہ ” میں نے ہرگز اس مضمون پر قلم اٹھانا پسند نہیں کیا۔جب تک کہ حضرت خلیفتہ المسیح ادل کے ہاتھ کا لکھا ہوا فتوی نہیں پڑھ لیا کہ حکام نے غلطی کی۔الخ " نیز لکھا۔” میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک معمولی امر ہے کہ بعض واقعات سے ایک شخص ایک نتیجہ پر پہنچے دوسرا کسی اور نتیجہ پر۔اس کو سلسلہ میں اختلاف کا نام دینا اس کے مرتکب احمدی ہوں یا غیر احمدی بڑی جلد بازی ۶۰ جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے اخبار پیغام صلح کے پیش نظر اہم ترین مقاصد میں سے اولین مقصد خاندان حضرت مسیح موعود کی مخالفت تھی۔حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے پیغام صلح کے اجراء پر اس اخبار کے لئے اکسیر" کے عنوان سے ایک نہایت لطیف مضمون ارسال فرمایا۔جس سے آپ کی