تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 461
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 453 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء انہیں بدنام کرنے کے درپے تھے اس وقت قادیان کے اخبارات الحکم اور بد ر زیادہ تر میاں صاحب ہی کے زیر اثر تھے۔دوسری طرف حضرت خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم و مغفور کے ذریعہ۔۔۔۔۔۔بلاد غربیہ میں اسلام کا سورج طلوع ہونا شروع ہو گیا۔رسالہ اسلامک ریویو مسلم انڈیا اینڈ اسلامک ریویو کے نام سے جاری ہو چکا تھا اور ضرورت اس بات کی داعی تھی کہ اس رسالہ کے چیدہ مضامین کا ترجمہ اور ورکنگ مشن کی ضروری خبریں ہندوستان کے اردو دان لوگوں تک پہنچائی جائیں ان حالات و ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے جن کا قدم سلسلہ کی ہر تحریک میں سب سے آگے رہا ہے۔پیغام صلح سو سائٹی کے نام سے مشترک سرمایہ کی ایک کمپنی بنائی اور اس کے ماتحت پیغام صلح کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب چونکہ ایڈیٹر "الحلال" ابو الکلام آزاد صاحب سے ساز باز کر چکے تھے۔اس لئے "پیغام صلح " کی سیاسی پالیسی کا اخبار الحلال سے ہم آہنگ ہو نا طبعی بات تھی۔جس کا واضح اور کھلے رنگ میں اظہار کان پور کے مشہور حادثہ کے موقعہ پر صاف نظر آگیا۔واقعہ یہ ہوا کہ کانپور کے محلہ مچھلی بازار میں ایک مسجد بر سر راہ تھی وہاں سے شہر کی میونسپلٹی نے ایک نئی سڑک نکالی جس میں مسجد کا ایک حصہ جو غسل خانہ تھا شامل کر دیا گیا۔اس سلسلہ میں کانپور کی عید گاہ میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع ہوا۔جس میں بعض آتش بیان مقرروں کی تقاریر کے نتیجہ میں زبر دست اشتعال پیدا ہو گیا اور جلسہ کے اختتام پر سینکڑوں آدمی سیدھے مسجد کی طرف چل پڑے اور جاتے ہی شور مچانا شروع کیا کہ مسجد کو دوبارہ تعمیر کر دو اور کچھ لوگوں نے اینٹیں بھی اکٹھی کرنی شروع کر دیں۔ایک سب انسپکٹر پولیس نے ان کو سمجھایا۔مگر انہوں نے اس پر پتھر برسائے بعد ازاں ایک انسپکٹر پولیس چند سپاہیوں کو لے کر پہنچا تو اس پر بھی پتھراؤ کیا گیا اور وہ چوکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوا اور اس کا کچھ سامان بھی توڑ پھوڑ دیا۔جب صورت حال اس درجہ پہنچ گئی تو ڈپٹی کمشنر اور سپر نٹنڈنٹ پولیس مسلح پولیس لے کر موقعہ پر آئے۔ڈپٹی کمشنر نے پولیس کو پیچھے چھوڑ کر لوگوں کو سمجھانا شروع کیا۔مگر اس پر بھی اینٹیں اور پھر پھینکے گئے۔کچھ دیر انتظار کے بعد ڈپٹی کمشنر نے پولیس کو خالی فائر کرنے کا حکم دیا۔لیکن مجمع بدستور قابو سے باہر ہو رہا تھا۔اس لئے گولی چلانی پڑی جس پر لوگ منتشر ہو گئے۔تیرہ آدمی اسی وقت مردہ پائے گئے۔تمہیں زخمی ہوئے جن میں سے چھ نے بعد میں دم تو ڑ دیا۔دوسری طرف پولیس کا ایک آدمی خود پولیس کی گولی سے مر گیا۔پچیس سپاہی زخمی ہوئے اور ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھی ضربیں آئیں اس فساد میں قریباً ایک سوستر