تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 25
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 21 فلیتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ؟ نے اسے باہر مکان بنا دیا۔میرے باپ نے اس کے پاس میرے بھائی کو پڑھنے کو بھیجا۔لوگوں نے کہا خوبصورت بچہ ہے کیوں اس کی زندگی کو ہلاکت میں ڈالتے ہو اس پر میرے باپ نے کہا۔مدن چند جتنا علم پڑھ کر اگر میرا بیٹا کوڑھی ہو گیا تو کچھ پروا نہیں میرے والد ایسے بلند ہمت تھے کہ وہ اگر اس زمانہ میں ہوتے تو مجھے امریکہ بھیج دیتے۔ایک دفعہ مجھے کہا کہ تم تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاؤ مگرماں کو خبر نہ ہو۔دوم اتنی دور جاؤ کہ اگر ہم مر جائیں تو تم کو خبر نہ ہو۔بھینسیں رکھنے کا آپ کو از حد شوق تھا۔چرواہے کو تاکید کردی تھی کہ ہماری بھینس کا دودھ نہ دوہا کر۔ہم تجھے زیادہ اجرت دیں گے۔لیکن وہ ایک دن دودھ دوہتا ہوا پکڑا گیا۔تو کہنے لگا کہ حضور میرا بیٹا مر گیا ہے اس کی جمعرات ہے میں نے بہت سوچا پھر یقین ہو گیا کہ آپ کی بھینس طیب حلال ہے اس کا دودھ اس کی فاتحہ میں دوں آپ بہت مضبوط تنومند اور بہت تیز چلنے کے عادی تھے اور آخر عمر تک اس تیز رفتاری میں فرق نہیں آیا۔لباس عمدہ ہو تا۔ایک قسم کی لنگی پہنتے تھے جس پر تلا ضرور ہو تا تھا۔یہ لنگی آپ کی بیٹیاں اپنے ہاتھ سے تیار کرتی تھیں اور اس پر ان کو فخر ہو تا تھا۔RO آپ کی وفات ۱۸۷۱ء کے بعد ہوئی جبکہ حضرت مولوی نور الدین صاحب سفر حجاز سے واپس تشریف لا چکے تھے۔آپ کی دس پشتوں میں ایک ہی شخص سے خاندان کی نسل چلتی چلی آئی ہے یعنی کوئی اور بھائی اور بہن اس کے ساتھ نہیں ہو تا تھا۔یہی بات آپ میں تھی۔نہ آپ کا کوئی اور بھائی تھانہ بہن! اگر آپ کی پشت سے چونکہ نور الدین جیسا مقدس وجود ظاہر ہونا مقدر تھا اس لئے اللہ تعالٰی نے اس کی برکت سے گذشته خاندانی سلوک کو بدل کر آپ کو خارق عادت رنگ میں سات بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔یہ سب لکھے پڑھے تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول عمر کے اعتبار سے آپ کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔اور پہلی اولاد گویا آپ کے لئے بطور ارہاص تھی۔آپ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: - مولوی سلطان احمد صاحب : بڑے متبحر عالم تھے۔بھیرہ کی جامع مسجد میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔مگر بعد میں لاہور چلے آئے اور یہاں آپ نے مطبع قادری کے نام سے کابلی مل کی حویلی میں ایک مطبع کھول دیا۔جو لاہور کے قدیم ترین مطالع میں سے سمجھا جاتا ہے - مولف "اختر شهنشاهی (اختر الدوله حاجی سید محمد اشرف نقوی مالک اخبار اختر ہند) نے لاہور کے ایک پرانے مطبع قادری کا ذکر کیا ہے جس کا اجراء قادر بخش نامی کسی صاحب نے ۱۸۸۱ء میں کیا تھا۔مگر مولوی