تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 24
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 20 خلیفتہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) حضرت حافظ صاحب بڑے شہسوار تھے۔اور گھوڑیوں کا انہیں بڑا شوق تھا۔خدا نے مال و دولت بھی بہت دے رکھی تھی۔اور بڑے عالی حوصلہ اور شاہانہ طبیعت و مزاج کے انسان تھے۔چرہ سے ہمیشہ بشاشت ٹپکتی تھی۔اپنے بچوں خصوصاً اپنے سب سے چھوٹے صاحبزادے (حضرت مولانا نور الدین خلیفتہ المسیح اول) پر بڑی شفقت فرماتے۔اور ان کے کسی بڑے سے بڑے خرچ کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اکثر لاہور سے اشیاء منگوانے کا انتظام فرماتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مولانا نور الدین صاحب اپنے مکتب میں کھڑے سختی سکھا رہے تھے کہ آپ کا اچانک گذر ہوا۔دیکھا کہ سیاہ رنگ کے پانی سے بھرے ہوئے ایک گھڑے سے انہوں نے تختی صاف کی ہے اور بازو گندے ہو گئے ہیں۔فرمایا ہم اس کام کو پسند نہیں کرتے اور آپ کو بازار سے بہت سے کاغذ خرید دئیے اور ایک شخص غلام حسن سے اس کی وملیاں بنوادیں۔حضرت مولوی نور الدین چند و ملیاں لے کر گھر آئے۔اور ہر ایک پر الف ب وغیرہ حروف لکھ کر سب سیاہ کر ڈالیں۔بڑے بھائی نے آپ سے عرض کیا کہ نور الدین نے تھوڑی دیر میں کتنے ہی کاغذ خراب کر دیے ہیں انہوں نے فرمایا۔کیا حرج ہے تم اس کے نام کا ہی کھاتہ جدا کر دو اور وہاں سے خرچ کرتے رہو جب بڑا ہو گا تو اپنا قرضہ خود اتارے گا۔ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب "گلستان" پڑھ رہے تھے کہ آپ کے والد محترم نے فرمایا۔یہ اچھے خط کی نہیں اسے چھوڑ دو اور جلد ہی کشمیر سے ایک نہایت خوشخط گلستان منگوا کے ان کے حوالہ کر دی۔کچھ عرصہ بعد حضرت مولوی صاحب نے اس پر دوات رکھی اور وہ ہوا سے الٹ کر اس کے ورقوں پر پھیل گئی اور کتاب غارت ہو گئی مگر آپ کے والد صاحب نے نہایت درجہ حو صلہ مندی اور بشاشت قلبی سے فرمایا کہ کیا حرج ہے اور لے دیں گے۔بچوں کی ذہنی نشود نما اور اعلیٰ صحت کے برقرار رکھنے کا آپ کو بہت خیال رہتا۔آپ کا دسترخوان انار - سیب اور انگور وغیرہ عمدہ پھلوں سے بھرا رہتا تھا۔جو خاص اہتمام سے آپ منگواتے تھے۔اس کے ساتھ اپنے بچوں کی خالص اسلامی رنگ میں تربیت کا ان کو خاص خیال رہتا تھا۔کبھی نقد پیسہ اپنے بچوں کو نہیں دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شے تم چاہو ہم تم کو منگاریں گے ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ان سے عیدی مانگی تو فرمایا جو کچھ کہو گے ہم منگا دیں گے پیسے کیا کرو گے۔اور صرف ادھنی آپ کو دی۔اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے آپ از حد شائق تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح اول فرمایا کرتے "میرے باپ کو اپنی اولاد کی تعلیم کا بہت شوق تھا۔مدن چند ایک ہندو عالم تھاوہ کو ڑھی ہو گیا لوگوں