تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 26
تاریخ احمدیت جلد ۳ 22 خلیفتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) سلطان احمد صاحب کا پریس غدر ۱۸۵۷ء سے بھی کئی برس پہلے کا ہے۔کنہیا لال ایگزیکٹو انجینئر لاہور کی مشہور تاریخ لاہور میں سب سے پہلا مطبع "کوہ نور کو قرار دیا گیا ہے۔جو منشی ہر سکھ رائے نے ۱۸۵۰ء میں جاری کیا تھا۔ممکن ہے کہ ہندوؤں میں سے ہر سکھ رائے کا پریس سب سے پہلا ہو مگر لاہور کے مسلمان پریس میں مولوی سلطان احمد صاحب کے پریس ہی کو اولیت حاصل ہے۔مطبع قادری میں کتابیں اور اخبار دونوں چھپتے تھے۔ایک دفعہ اس میں اخبار ”لاہور گزٹ بھی شائع ہوا۔اس نام کے مطبع کی چھپی ہوئی ایک کتاب "ناصرۃ العطرة الطاهرة " جو سید ابو القاسم کی تالیف ہے صادق لائبریری ( قادیان) میں اب بھی موجود ہے اس کا سن اشاعت ۱۲۷۶ھ بمطابق ۷۹ ۱۸۷۸۰ ء ہے۔مولوی سلطان احمد صاحب اور ان کے دوسرے بھائیوں کے استاد موادی احمد الدین صاحب بگوی گے والے) تھے۔مولوی سلطان احمد صاحب کی شادی بھی بگوی خاندان میں ہی ہوئی تھی۔جو مولوی احمد الدین صاحب کی حقیقی بھیجی تھی۔چنانچہ آپ کی بیوی نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو دودھ چھڑانے کے بعد اکثر اپنے پاس رکھا وہ آپ کو بہلاتے ہوئے اکثر کہا کرتی تھیں انت الھادی انت الحق ليس الهادى الا ھو۔E آپ کے دو مشہور صاحبزادے تھے۔مولوی حافظ محمد صاحب هو جو ۳۱۳۔اصحاب میں سے ۲۵۸ نمبر پر تھے ۲۔مولوی احمد اللہ صاحب - مولوی سلطان احمد صاحب بھیرہ میں ہی مدفون ہیں ان کی وفات اپنے والد بزرگوار کے بعد ہوئی۔مولوی غلام نبی صاحب : ان کی اولاد بھیرہ کے نزدیک سبحان پور میں آباد ہوئی۔-۳- حکیم غلام احمد صاحب : میانی میں ہی رہا کرتے تھے۔اور میانی کے قبرستان خانقاہ مخدوم صاحب میں ہی آپ کی آخری آرام گاہ ہے (معہ اہلیہ صاحبہ ) موادی سردار محمد صاحب اور مولوی دوست محمد صاحب جن کا نام حضرت مسیح موعود نے انجام آتھم کی ۳۱۳ کی فہرست میں بالترتیب ۲۵۷٬۲۵۷ پر لکھا ہے آپ ہی کے صاحبزادے تھے۔ده ۴ تا ۶ - مولوی محمد بخش صاحب : تاجر کتب تھے۔کتابیں فروخت کرتے ہوئے لیہ تشریف لے گئے اور وہیں زحیر کی مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔ان کے علاوہ ایک بیٹے غلام محی الدین صاحب تھے۔بہنوں کا نام یہ ہے۔غلام بی۔امام بی ے۔حضرت حافظ مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ اصحیح اول الله عنه - حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور آپ کے سب ہی فرزند (حضرت مولوی نور الدین خلیفته