تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 435 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 435

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 427 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہندو عرب 1-0 کر لیا۔اور قادیان کے باشندوں کے حالات کو بھی غور و تدبر کی نگاہ سے دیکھ کر انشراح صدر ہو گیا۔تو مزید توقف نہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول کے دست مبارک پر بیعت کرلی۔حضرت مولوی سید عبد الواحد صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں درخواست کی کہ بنگال میں علماء کا ایک تبلیغی وفد بھیجوایا جائے۔چنانچہ حضور نے مارچ ۱۹۱۳ء میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت میر قاسم علی صاحب ، حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، مولوی مبارک علی صاحب اور مولوی ابو یوسف صاحب کو بنگال بھجوایا۔اس وفد کے امیر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب تھے۔وفد نے سترہ دن تک بنگال کے مختلف مقامات کا دورہ کر کے تبلیغ حق کا فریضہ ادا کیا۔یہ پہلا وفد تھا جو قادیان سے بنگال بھیجا گیا۔جنگ بلقان ۱۹۰۸ء میں نوجوان ترکوں کی پارلیمنٹ نے سلطان کو معزول کر کے اس کی جگہ محمد خامس کو سلطان اور خلیفتہ المسلمین بنالیا تھا یورپ کی بڑی بڑی حکومتیں اس انقلاب سے بہت مشوش ہو ئیں اور آخر 1911 ء میں اٹلی نے طرابلس پر چڑھائی کر دی پھر بلقانی ریاستوں نے بھی دول عظمیٰ کی شہ پا کر ترکی کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔اور ترکی نہایت تشویشناک صورت حال سے دو چار ہو گیا۔اس سلسلہ میں متحدہ ہندوستان کے مسلمان زعماء اور مسلمان اخبارات نے یہ تحریک اٹھائی کہ عید الاضحیہ کی قربانی کا روپیہ ترکی مجروحین کی امداد میں بھیج دیا جائے۔مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنے اخبار "الحلال" میں تو یہاں تک لکھا۔" آج نماز اور حج سے بڑھ کر ہمارا فرض ترکوں کی مدد ہے "۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح اول سے جب فتوئی طلب کیا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں جن پر قربانی فرض ہے وہ قربانی کے علاوہ روپیہ بھیج سکتے ہیں مگر شرعا قربانی کے بدلہ میں روپیہ نہیں دیا جا سکتا۔نیز ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔حضرت نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں بڑی ضرورتیں تھیں۔خلفاء کے زمانہ میں سخت سے سخت ضرور تیں تھیں۔قربانی ترک نہیں کی گئی افسوس قرآن نہ سمجھنے کا وبال ہے۔کیا مسلمانوں کے پاس مال ہی نہ رہا کہ اب قربانی پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔اگر ایسے ہی مفلس ہیں تو نہ زکوۃ نہ قربانی اور نہ تعلیم پر روپیہ خرچ کریں چھٹی ہوئی اللہ اللہ تم اللہ اللہ - مکہ میں قربانیاں بند کر دیں۔۔۔یو نیورسٹی کا روپیہ دے دیں۔۴ کروڑ مسلمان ہیں ۴/ ہی دیں۔مگر خود اسلام کے شعار کو ہاتھ سے نہ دیں۔طرابلس کے غریب عرب جان دے رہے ہیں ترک میدان جنگ چند روز جاری رکھیں قد افلح المومنون والله العزة ولرسوله وللمومنين انا لننصر رسلنا والذين امنوا في الحيوة الدنيا بالکل سچ ہے حرفے بس است "۔۔۔