تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 434
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 426 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایر و اللہ کے سفر ہند و عرب میں آیا ہے؟ جواب دیا۔ہاں۔آپ نے پوچھا خاتم کے معنی کیا ہیں۔کہنے لگے مر- آپ نے کہا۔اب " خاتم النبین کے معنی کیجئے۔فرمانے لگے سب نبیوں کے بعد آخر نبی۔عرض کیا کہ آخری کس لفظ کے معنی ہیں۔مولوی احمد رضا خان صاحب نے جواب دیا۔ہم فتویٰ لکھ کر آخر میں ہی مر کرتے ہیں۔آپ نے کہا میں تو ایسا نہیں کرتا۔میں ہمیشہ رہنے طرف حاشیہ پر مر کر دیتا ہوں یہی دستور سرکاری کاغذوں میں ہوتا ہے۔اس پر وہ بالکل لاجواب ہو گئے۔مولوی احمد رضا خان صاحب سے باتیں کرتے کرتے بارہ بج گئے۔اثنائے گفتگو میں بعض اوقات ان کا چہرہ زرد ہو جاتا تھا ان کی یہ کیفیت دیکھ کر آپ نے گفتگو بند کر دی۔اور وہاں سے امروہہ میں مولوی محمد احسن صاحب سے ملنے کے بعد دہلی آکر مولوی عبدالحق صاحب (مولف تغییر حقانی) کے پاس پہنچے اور سوال کیا کہ ظہور مہدی و نزول مسیح کے بارے میں آپ کی تحقیق کیا ہے کہنے لگے کسی مسیح و مہدی کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں جن حدیثوں میں ان کی آمد کی خبر ہے وہ احاد کی قبیل سے اور محض ظنی ہیں۔مولوی عبد الواحد صاحب نے کہا کہ حضرت ابھی آپ جو خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی کے مزار سے ہو کر آئے ہیں تو آپ کو وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی۔مولوی عبدالحق صاحب نے اپنے خادم کو زور سے آواز دی کہ چائے لاؤ اور مولوی صاحب کو پلاؤ لیکن آپ نے عذر کر دیا۔دوسرے دن پنجاب کی طرف روانہ ہو گئے۔امرت سر پہنچ کر مولوی ثناء اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی ان دنوں میر قاسم علی صاحب نے اشتہار دے رکھا تھا کہ اگر میرے تجویز کردہ الفاظ میں مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود کی تکذیب شائع کر دیں تو پچیس روپے انعام دوں گا۔مگر مولوی صاحب اس طرف نہیں آتے تھے۔اب جو مولوی ثناء اللہ صاحب سے ملے تو جونہی ان کی نظر آپ پر پڑی ان کا رنگ فق ہو گیا نہ معلوم اس کی کیا وجہ تھی ؟ الخصر آپ امرت سر سے بٹالہ آئے اور دوسرے دن صبح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس پہنچے قبل ازیں مولوی محمد حسین صاحب نے خط لکھا تھا۔کہ میرزا صاحب قادیانی کی تردید جس قدر میں نے کی ہے کسی نے نہیں کی۔سات برس تک یہی کام کرتا رہا۔چنانچہ " اشاعۃ السنہ" کی سات جلد میں میرے پاس موجود ہیں اور ہر ایک کی قیمت تین روپیہ ہے۔آپ نے جواب دیا کہ آپ صرف یہ بتا ئیں اس سات برس کے عرصہ میں آپ نے کتنے مسائل میں مرزا صاحب کو شکست دی ہے؟ مولوی محمد حسین صاحب نے بوقت ملاقات آپ کو قادیان جانے سے روکنے کے لئے بہت کچھ حیلہ انگیز باتیں کیں۔مگر آپ نے جواب دیا۔جب اتنی دور آگئے ہیں تو قادیان دیکھے بغیر نہ جائیں گے چنانچہ بڑی مشکل سے آپ مولوی محمد حسین سے رخصت ہو کر قادیان پہنچے۔قادیان میں آپ پندرہ دن تک حضرت خلیفہ اول سے تبادلہ خیالات کرتے رہے اور جب اپنے تمام نوٹ کئے ہوئے شبہات کا تسلی بخش جواب پا کر ہر طرح اطمینان