تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 436 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 436

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 428 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب بعض نام نہاد احمدیوں نے اس موقف پر اعتراض کیا تو آپ نے مفصل تقریر کی کہ میں ترکی کو چندے دینے کا ہرگز مخالف نہیں۔مگر شرعی قربانی چھوڑنا ہرگز جائز نہیں۔خود ترکی حکومت نے عید کی قربانیاں ترک نہیں کیں۔مکہ معظمہ میں قربانیاں ہوئیں پس ایسی باتوں میں اختلاف نہ کرو۔مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے۔اور میں تم میں سے کسی کا بھی احسان مند نہیں جسے یقین نہ ہو وہ مقابلہ پر آکر دیکھ لے۔1 H ترکی کے لئے چندے کے بارے میں حضرت خلیفہ اول نے یہ بھی لکھا تھا کہ یہ روپیہ جس مقصد کے لئے لیا جاتا ہے۔اس میں خرچ ہو اور صحیح مقام پر پہنچ جاوے۔ایک خط کے جواب میں آپ نے یہاں تک لکھا۔میں ڈرتا ہوں کہ غریبوں کا روپیہ ضائع نہ ہو جاوے"۔چنانچہ آپ کی یہ فراست حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔چنانچہ اسی چندہ کے پرجوش حامی الحلال کے ایڈیٹر مولوی ابو الکلام صاحب آزاد نے ایک لمبے آرٹیکل میں یہ انکشاف کیا کہ "جس شخص کا جی چاہتا ہے فرضی انجمنیں قائم کر لیتا ہے۔چندوں کے لئے فہرست کھول دیتا ہے۔نہ کوئی حساب و کتاب ہے اور نہ کوئی نگرانی و احتساب " - | 117 دو تحریکیں دسمبر ۱۹۱۲ ء کے آخر میں حضرت خلیفہ اول نے دو اہم تحریکیں فرمائیں۔۔علم الرویا کا علم اللہ تعالی نے بعض انبیاء کو عطا فرمایا۔اور ان سے ورثہ میں علماء امت کو پہنچا۔چنانچہ پہلے مسلمانوں نے اس فن پر کامل استعمیر اور تعطیر الانام وغیرہ عمدہ کتابیں لکھیں حضرت خلیفہ اول نے تحریک فرمائی کہ ہم سے پہلے بزرگوں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔لیکن اب کئی نئی ایجادیں نکل آئی ہیں ہمیں نئی ضروریات کے لئے اس فن کی ضخیم کتاب تیار کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔در سری تحریک آپ نے یہ فرمائی کہ مال غنیمت کی تقسیم کے لئے جو اللہ اور رسول کا حق ہے اس کا مصرف موجودہ زمانہ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی صفات اس کے افعال اور اس کے کلام پاک کی اشاعت پر رسالے اور ٹریکٹ شائع کئے جائیں۔اور رسول کریم ﷺ کے حصہ کی ادائیگی کے لئے حدیث شریف کی اشاعت اور حضور کی ذات اور حضور کے خلفاء پر اعتراضات کے جوابات پر روپیہ خرچ کیا جائے۔۲۸ / دسمبر ۱۹۱۲ء کا واقعہ ہے کہ قاضی محمد یوسف صاحب کے ایک رقعہ کا جواب قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری حضور کی خدمت میں دعا کا ایک رقعہ لے کر حاضر ہوئے۔آپ چارپائی پر مطب میں تشریف فرما تھے۔