تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 389
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 381 الجمن انصار اللہ کا قیام میموریل لکھوا کے مسلمانوں کے دستخط کروائے اور ندوۃ العلماء کے اجلاس منعقدہ ۸۴۷۶/ اپریل ۱۹۱۲ ء میں ریزولیوشن پیش کر کے اس تحریک کی تائید میں ایک مختصر اور پر دلائل تقریر فرمائی۔اس اجلاس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب بھی موجود تھے۔آپ نے بھی اس کی تائید کی اور یہ ریزولیوشن بالاتفاق پاس ہو گیا۔چنانچہ اجلاس کی روئداد میں لکھا ہے۔" جناب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی نے اس کی نہایت پر جوش تائید کی اور جناب مرزا محمود احمد صاحب قادیانی کی تائید مزید کے بعد ووٹ لئے گئے اور تجویز مندرجہ بالا انہیں الفاظ کے ساتھ نہایت جوش کی حالت میں بالاتفاق پاس کی "۔سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ”حیات شیلی" کے صفحہ ۵۰۱ پر بھی اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔آخر مارچ ۹۱۳ء میں مسٹر غزنوی (بنگال کے نمبر) نے بنگال کو نسل میں اس کے متعلق گورنمنٹ سے سوال کیا۔سرکاری ممبر نے اس کا جواب تسلی بخش دیا اور گورنمنٹ بنگال نے نماز جمعہ کے لئے دو گھنٹہ کی چھٹی منظور کرلی۔مولانا شبلی نے اس پر ایک میموریل تیار کرایا جس میں بنگال گورنمنٹ کے فیاضانہ حکم کا حوالہ دے کر گورنمنٹ سے خواہش کی کہ جمعہ کو دو گھنٹہ کی تعطیل کی بجائے ایک بجے سے آدھے دن کی عام تعطیل دی جائے۔یہ کارروائی ابھی جاری تھی کہ مولانا شیلی انتقال فرما گئے مگر اس میموریل کا یہ اثر ہوا کہ اکثر صوبوں میں ملازمین کو نماز جمعہ میں جانے کی اجازت مل گئی۔خلیفہ اور انجمن کے تعلقات پر بحث خلیفہ اور انجمن کی بحث حضرت کے فیصلہ پر ختم کرنے والوں کے خلاف اظہار نفرت ہو جانی چاہئے تھی مگر بعض لوگ اندر ہی اندر اسے تفرقه اندازی کا ذریعہ بنا کر چھیڑتے رہتے تھے جس سے آپ کو از حد تکلیف ہوئی چنانچہ ۵ / اگست ۱۹۱۱ء کا واقعہ ہے کہ آپ نے فرمایا۔"تم میں اگر اس قسم کی بحثیں ہوں کہ خلیفہ اور فلاں کے کیا تعلقات ہیں اور پھر اس پر فیصلہ کرنے لگ جاؤ تو مجھے سخت رنج پہنچتا ہے تم مجھے خلیفتہ المسیح کہتے ہو۔میں تو اس خطاب پر کبھی پھولا نہیں بلکہ اپنے قلم سے کبھی لکھا بھی نہیں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان بیہودہ بخشیں کرنے والے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔۔۔۔ان کو کیا حق ہے کہ تفرقہ اندازی کی باتیں کریں۔۔۔۔ایسے لوگ اگر میری مدد کے خیال سے ایسا کرتے ہیں تو سن رکھیں کہ میں ان کی مدد پر تھوکتا بھی نہیں۔اگر مخالفت میں کرتے ہیں تو وہ خدا سے جا کر کہیں جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔سنو ! میرا صدیق اکبر کی نسبت یہی عقیدہ ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ نے خلیفہ نہیں بنایا نہ اس وقت جب ممبر پر لوگوں نے بیعت کی۔نہ اجماع نے ان کو خلیفہ بنایا۔بلکہ خدا نے بنایا۔خدا نے چار جگہ قرآن میں خلافت کا ذکر کیا ہے۔اور چار بار اپنی