تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 390 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 390

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 382 انجمن انصار اللہ کا قیام طرف اس کی نسبت کی ہے پس میں بھی خلیفہ ہوا تو مجھے خدا نے بنایا اور اللہ کے فضل ہی سے ہوا"۔۲۵ ستمبر 191 ء کو عید الفطر تھی جو حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے خطبہ عید پڑھائی۔اور ایک خطبہ دیا۔جس میں یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے ابتلاء سے بچنے کے لئے عید کے دن میں (جو خوشی کا دن ہے) چھٹی نماز کا اضافہ کر دیا ہے۔اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب مال و دولت اور آرام و راحت حاصل ہو تو عبادت زیادہ کرو۔جب ان کی خواہشات بڑھیں تو ایک اور نماز بھی بڑھا دو۔ریاست میسور کے شہر بنگلور سے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں احمدی علماء جنوبی ہند میں درخواست پہنچی کہ ہمارے یہاں جماعت اسلامیہ کا جلسہ ہو رہا ہے جس میں بلاد ہند کے علماء شرکت کریں گے۔آپ بھی اپنے علماء مرکز سے بھجوائیں۔چنانچہ آپ نے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، خواجہ کمال الدین صاحب اور مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھجوایا۔بنگلور میں سید سلیمان صاحب ندوی (۱۸۸۴- ۱۹۵۳) اور مولانا شوکت علی صاحب (۱۸۷۳-۱۹۳۸) کے علاوہ بعض عرب علماء بھی آئے ہوئے تھے۔سید سلیمان صاحب ندوی نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کی تقریر کے بارے میں کہا کہ ان کی بیان کردہ تفسیر نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔میں نے آج تک سو کے قریب تفاسیر سورہ کو ثر کی پڑھی ہیں مگر ان کی تقریر میں بالکل نئے حقائق و معارف تھے اور جدید معلومات کا ایک ذخیرہ موجود تھا خواجہ صاحب نے ان کو بتایا کہ یہ میرے استاد ہیں۔نواب سید رضوی صاحب کی طرف سے واپسی پر یہ وفد بھٹی میں پہنچا تو خواجہ صاحب کی خواجہ صاحب کو دس ہزار روپے کی پیشکش ملاقات نواب سید رضوی صاحب سے ہوئی جن یا کو نظام حیدر آباد دکن کی پھوپھی زاد بہن سے شادی کرنے کی پاداش میں ریاست سے نکال دیا گیا تھا۔سید رضوی صاحب نے جو ان دنوں ہمیئی میں وکالت کرتے تھے خواجہ کمال الدین صاحب سے اپنے کیس کے بارے میں مشورہ کیا۔طے پایا کہ پریوی کو نسل میں مقدمہ دائر کر کے رضوی صاحب کی بیوی کو اس کی والدہ کی جائیداد اور ملکیت کا وریشہ دلایا جائے۔نواب رضوی صاحب نے خواجہ صاحب کو سفر انگلستان کے لئے آٹھ ہزار روپیہ کی رقم اور اہل وعیال کے اخراجات کے لئے دو ہزار روپے پیش کئے۔