تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 388 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 388

تاریخ احمد بیت۔جلد ۳ 380 الجمن انصار اللہ کا قیام نہایت زور مگر ادب کے ساتھ درخواست کرتا ہے کہ مولانا مدوح کی خواہش کے مطابق اس میموریل کی پر زور تائید کریں۔۔۔۔۔امید ہے کوئی شخص ایسی مبارک اور نیک تجویز کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرے گا"۔اخبار زمیندار نے لکھا۔" اس ضروری اور اہم تحریک کی سعادت مولانانور الدین صاحب کے حصہ میں آئی ہے جنہوں نے قادیانی جماعت کے پیشوا کی حیثیت سے تمام مسلمانان ہند کی توجہ کو اس طرف مبذول کیا ہے۔۔۔۔اور ہمیں یقین ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہ ہو گا۔جو ایسے میموریل کے گذرانے کو بہ نگاہ احسان نہ دیکھے"۔اخبار الاسلام لاہور نے لکھا۔"کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کے دل میں حضرت محمد مصطفیٰ اور آپ کے پیارے دین اسلام کی سچی محبت ہو اور وہ اس میموریل کی مخالفت کرے یا اسے نا پسند کرے کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے ہر گز نہیں۔آل انڈیا مسلم لیگ کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ کو ہاتھ میں لے۔اور ایک میموریل تیار کرے۔تمام انجمنوں و ڈسٹرکٹ لیگوں کا فرض ہے کہ وہ اس میموریل کی تائید میں ریزولیوشن پاس کریں تمام رسالوں اور اخباروں کا فرض ہے کہ اس معالمہ کو اس وقت تک نہ چھوڑیں جب تک کہ اس میں کامیابی نہ ہو جائے"۔اخبار اہلحدیث امرت سرنے لکھا۔حکیم صاحب نے ایک اشتہار سب مسلمانوں کی اتفاق رائے اور تائید کے لئے اس امر کے متعلق دیا ہے کہ دربار تاجپوشی دہلی کے موقعہ پر گورنمنٹ سے ایک میموریل کے ذریعہ جمعہ کی نماز کے لئے ۲ گھنٹہ کی تعطیل حاصل کی جائے۔اور بذریعہ سرکاری سرکار سرکاری دفاتر سکولوں اور کالجوں میں یہ تعطیل ہونی چاہئے۔حکیم صاحب کی رائے سے ہم متفق ہیں۔تمام مسلمانوں کی معرفت بھیجنا چاہئے"۔افشان " نے لکھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک نہایت مناسب اور ضروری ہے اور کسی مسلمان کو اس قسم کی ضرورت سے انکار نہیں ہو سکتا"۔مسلمان اخبارات اور دوسرے عام مسلمانوں نے عموماً اور علی گڑھ تحریک سے وابستہ لوگوں نے خصوصا یہ رائے دی کہ یہ میموریل دربار تاجپوشی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہو۔لہذا حضرت خلیفہ اول نے بھی اس سے اتفاق فرمایا اور احمدی جماعتوں کو اس سے مطلع کر دیا گیا کہ وہ اس معالمہ میں مسلم لیگ کی ہر طرح تائید و معاونت کریں۔مسلم لیگ کے ہاتھ میں لے لینے کے بعد سب سے زیادہ جس شخص نے اس کی تائید میں منتظم کوشش کی وہ شمس العلماء مولانا شیلی تھے جنہوں نے اس غرض کے لئے چندہ جمع کیا۔انگریزی میں