تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 387
تاریخ احمدیت۔جلد سو 379 انجمن انصار اللہ کا قیام حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی آمین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے چھوٹی صاجزادی حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے ختم قرآن پر ۳/ جولائی 1911ء کو آمین ہوئی جس پر حضرت ام المومنین نے احباب قادیان کی ایک شاندار دعوت کی اور حضرت میر ناصر نواب صاحب کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پرانی خواہش کے مطابق نظم کی جس میں یہ مصرعہ بار بار آتا تھا فسبحان الذي او في الاماني اخبار بدر نے اس تقریب پر لکھا۔"ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی خاندان نبوت میں قرآن مجید سمجھنے والے اور پھر اس کے مبلغ پیدا کر تار ہے۔اور وہ دنیا کے لئے ہادی و رہنماء پیشوا نہیں"۔۶۰ شہنشاہ جارج پنجم کا دربار تاجپوشی عنقریب دہلی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے میموریل ہونے والا تھا اس اہم واقعہ پر حضرت خلیفہ اول کے دل میں تحریک ہوئی کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جس میموریل کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی تھی اور جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی غفلت کی وجہ سے درمیان میں ہی رہ گیا تھا۔اسے اس خوشی کی تقریب پر وائسرائے ہند کی خدمت میں بھیجا جائے تو کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔چنانچہ آپ نے سلسلہ احمدیہ کے امام کی حیثیت سے مسلمانان ہند کے نام ایک مفصل اعلان شائع کیا۔تا مسلمان پبلک اور مسلمان اخبارات اور مسلمان انجمنیں بھی اپنی قرار دادوں کے ذریعہ اس کے حق میں آواز اٹھا ئیں۔نیز لکھا کہ یہ غرض نہیں کہ ضرور ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوں۔چونکہ اللہ تعالٰی نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے ہم نے اسے پیش کر دیا ہے اگر کوئی انجمن یا جماعت ایسی ہو جو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے تو ہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے بشر طیکہ اس کے بھیجنے کا کوئی مناسب انتظام کر لیا جائے"۔"1 اس اعلان کا ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں نے پر جوش خیر مقدم کیا اور مسلمان مقدس اسلامی شعار کے تحفظ کے لئے پھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔چنانچہ مسلم پریس نے اس کے حق میں پر زور آواز اٹھائی اور پر جوش الفاظ میں ادار لیے لکھے۔اخبار ملت (لاہور) نے لکھا۔ملت مولانا مولوی نور الدین صاحب سے کلی اتفاق کر کے جملہ انجمن ہائے وہ شاخ ہائے مسلم لیگ و معزز اہل اسلام و اسلامی پبلک اور معاصرین کرام کی خدمت میں