تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 383 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 383

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 375 رین صاحب اور ایڈیٹر صاحب نور کے علاوہ حضرت صاحبزادہ صاحب کا دوبارہ لیکچر ہوا۔انجمن انصار اللہ کا قیام چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا پہلا سفر انگلستان اسی سال کا واقعہ ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بالقابہ بیرسٹری پاس کرنے کے لئے انگلستان تشریف لے گئے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں اجازت سفر کے لئے آپ نے عریضہ لکھا تو حضور نے آپ کو اور آپ کے والد محترم حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کو استخارہ کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ دونوں نے استخارہ کیا اور کوئی امر مانع نہ پاکر انگلستان کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔آپ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں آخری ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے نصیحت فرمائی کہ آپ لنڈن جارہے ہیں۔لندن شہر دنیا کی زیب و زینت اور جاذب نظر مناظر کے لحاظ سے مصر سے بھی بہت بڑھ کر سنا جاتا ہے۔آپ ہر صبح سورہ یوسف کی تلاوت کر لینا اس سے بہت فائدہ ہو گا۔دوسرے کسی شہر میں سب کے سب شریر نہیں ہوتے۔شرفاء بھی ہوتے ہیں اس لئے تعلقات اور نشست و برخاست کے لئے شرفاء کا انتخاب مفید رہے گا۔اگر چہ وہ زمانہ آپ کے عنفوان شباب کا تھا اور مغربی ممالک خصوصاً انگلستان میں چاروں طرف الحاد دہریت اور لادینیت کا ایک سیلاب انڈا ہوا تھا۔مگر آپ نے خلیفہ وقت کی اس نصیحت پر اس سختی سے عمل کیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے جو بعد میں ہندوستان سے انگلستان پہنچ گئے۔اور دو کنگ میں مقیم تھے آپ کے زہد و تقوی، پاکیزہ اور اعلیٰ کیریکٹر اور دینی شعف سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوں نے حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کو خط لکھا کہ لندن شہر کو اگر مصر سے تشبیہ دی جائے تو ظفر اللہ خان یوسف ہیں۔01 قیام انگلستان کے دوران آپ کو اپنے تعلیمی فرائض ادا کرنے کے علاوہ انگلستان اور دوسرے مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے ذرائع دو سائل پر بھی کافی غور کرنے کا موقع ملا۔نیز یورپ کے نئے مذہبی رجحانات اور اسلام کے خلاف مہم کا بھی آپ نے گہرا مطالعہ کیا۔اور جہاں تک ممکن ہو سکا۔انگریزوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی از حد کوشش کی جس کی تفصیل ان رپورٹوں سے ملتی ہے جو ان دنوں اخبار بدر میں شائع ہوتی رہتی تھیں۔ان تبلیغی سرگرمیوں کے پیش نظر جو آپ نے زمانہ طالب علمی میں وہاں کی ہیں آپ کو اسلام کا سب سے پہلا احمدی مبلغ کہنا مناسب ہو گا۔یورپ کے لوگوں کو عیسائیت سے کھینچ کر اسلام کی طرف لانے کی آپ میں کس درجہ تڑپ تھی۔اس کا اندازہ ذیل کے خط سے باسانی لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے انہی دنوں لندن سے لکھا۔”مجھے اکثر تعجب آتا ہے کہ یورپ میں