تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 382
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 374 الجمن انصار اللہ کا قیام اس کو لکھ دو میرا بڑا پیر بھی اللہ ہے اور بڑا مرید بھی اللہ ہے۔وہ پیر ہے کیونکہ وہ میرا ہادی ہے وہ مرید ہے کیونکہ جودہ ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔مرید خداتعالی کا ایک نام ہے۔وہی میرے سب کام کرتا ہے میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے سوال نہیں کیا۔نہ اپنے مریدوں سے کرتا ہوں آپ کو جس طرح کا اضطراب ہے اگر اس میں دعا کی توفیق مل جائے تو انشاء اللہ بیڑا پار ہو جائے گا۔ایک پرائیویٹ کلاس اوائل 1911ء کی بات ہے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کالج سے تشریف لائے تھے۔آپ کی خاطر گھر میں حضرت سید نا مرزا بشیر الدین ام محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالی نے ایک کلاس شروع فرمائی۔جس میں حضرت میاں صاحب کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور سید ولی اللہ شاہ صاحب بھی شامل ہوتے تھے بعد میں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی بھی شامل ہو گئے تھے۔کلاس میں خطبہ الہامیه دروس النحویہ حصہ دوم قصیده بانت سعاد پڑھا جاتا تھا۔طریق تعلیم یہ تھا کہ آپ ہر روز پچھلا درس سنا کرتے تھے۔اور جب ایک سوال پوچھا جاتا اور نمبر ایک سے لے کر نمبر یا نمبرے تک کوئی نہ بتا تا صرف آخری طالب علم تلا تا تو اسے آخری نمبر سے اٹھا کر ایک پر لے جاتے اور باقی سب ایک ایک نمبر پیچھے کر دئیے جاتے۔نتیجہ یہ ہو تا کہ طالب علم اپنے اپنے نمبر کی حفاظت کے لئے خوب محنت کرتے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کا بیان ہے۔کہ ان کو ایک سال تک اس کلاس میں پڑھنے کا موقع میسر آیا۔۶ / مئی ۱۹۱۰ ء کو شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم نے انتقال کیا اور ۲۲ / جون ۱۹۱۱ء کو جلسه تاجپوشی پر تقریر شهزاده ویلیز جارج پایم (۶۱۸۲۵-۱۹۳۲ء) کی رسم تاج پوشی ہوئی۔اسی سال بشپ آفس مدر اس نے کہا۔”ہمارے شہنشاہ کو خدا کی طرف سے سلطنت برطانیہ کا تاج عطا ہوا ہے۔۔۔۔دنیا کی سلطنت آخر کار خدا کی سلطنت اور اس کے مسیح کی بادشاہت ہو کے رہے گی۔مگر قادیان کے جلسہ تاجپوشی میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے یہ تقریر فرمائی کہ گورنمنٹ برطانیہ کی دی ہوئی مذہبی آزادی کا جو سب سے بڑی نعمت اس حکومت کی ہے) شکریہ یہ ہے کہ ہم اپنے نفوس کا تزکیہ کریں۔اور اپنی زندگی ایسی طرز میں گزاریں جو مخلوق الہی کی ہمدردی سے لبریز ہو نیز دعا کی کہ جیسے اس شہنشاہ کے سر پر آج دنیاوی تاج رکھا ہے وہ دن بھی آوے کہ اسلام کا تاج اس کے سر پر ہو - D 24 مئی 1911 ء کو انجمن احمد یہ بٹالہ کا جلسہ تھا۔پہلے روز حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد جلسہ بٹالہ صاحب شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹرا حکم اور شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور نے لیکچر دیئے۔دوسرے روز حضرت حافظ روشن علی صاحب مولوی غلام رسول صاحب را جیکی - خواجہ کمال