تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 384
تاریخ احمدیت 376 الجمن انصار اللہ کا قیام تثلیث کے ماننے والوں کی کیا تعداد ہے۔میں نے سوائے ایک عورت کے کسی شخص کو انگلستان یا کسی اور ملک میں تثلیث کا قائل نہیں پایا۔یہ لوگ گرجے جاتے ہیں مگر صاف مانتے ہیں کہ لباس دکھانے کی غرض سے نہ عبادت کی ضرورت سے تثلیث کو بلا پس و پیش بیہودہ قرار دیتے ہیں تین ہی دن ہوئے کہ ایک عورت سے باتیں ہو رہی تھیں کہنے لگی کہ گرجے تو جاتی ہوں مگریچ پوچھو تو تثلیث کو نہ مانتی ہوں نہ مان سکتی ہوں۔ہم میں سے کوئی بھی نہیں مانتا اور ہمارے علماء اکثر دل میں اس سے منکر ہیں ایک ڈاکٹر سے میری گفتگو ہوئی اس نے کہا میں تو تثلیث کو نہیں مانتا لیکن فرض کیا کسی نے باپ اور بیٹے کو تو سمجھ لیا۔مگر روح القدس کے حصے کا پتہ نہیں لگتا۔میں نے ایک پادری سے سوال کیا تھا کہ مجھے سمجھاؤ تو اس نے جواب دیا کہ ڈاکٹر صاحب اگر اتنی عمر میں بھی آپ روح القدس کو نہیں سمجھ سکے۔تو میں آپ کو نہیں سمجھا سکتا اس ڈاکٹر نے اسلام کی بہت تعریف کی اور مجھ سے کہا میرے بعض دوست دل سے بالکل مسلمان ہیں۔فالحمد للہ کر صلیب دور نہیں معلوم ہوتی "۔۱۹۱۳ء میں آپ چند روز کے لئے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی تشریف لے گئے۔اس سفر میں بھی آپ کو پیغام اسلام پہنچانے کا موقعہ ملا۔اس سفر کے بعد تعطیلات گرما میں آپ نے ایک دوست کے ہمراہ سویڈن فن لینڈ اور روس کا سفر کیا۔ان دنوں روس کا ملک کچھ زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا۔تین دن سینٹ پیٹر برگ میں (جو ان دنوں روس کا دار الحکومت تھا) قیام کیا۔ایک دن آپ کو معلوم ہوا کہ وہاں ایک مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔چنانچہ آپ شیخ صاحب کے ساتھ وہاں پہنچے۔مسجد کے احاطے میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور ملا۔جو صرف ردی زبان بولتا تھا۔آپ نے عمارت کی طرف اشارہ کر کے سوال کیا مسجد ؟ اس نے جواب دیا مسجد پھر پوچھا۔مسلمان اس نے کہا " مسلمان الحمد للہ " آپ نے بتایا کہ ہم بھی مسلمان ہیں جس پر اس نے پھر الحمد للہ کہا۔اور تینوں نے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھا۔وہ آپ کو مسجد میں لے گیا۔جہاں آپ نے الحمد شریف پڑھی۔آپ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے کوئی گفتگو تو نہ کر سکتے تھے۔الحمد للہ وہ بھی سمجھتا تھا۔آپ بھی یہی پیارا کلمہ مسجد کی طرف اشارہ کر کے دہراتے رہے جب وہ آپ کو مسجد دکھا چکا تو آپ نے اسے ایک روپیہ دیا۔مسجد دیکھ کر آپ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔نیز یہ معلوم کر کے بھی مسرت ہوئی۔کہ سینٹ پیٹرس برگ میں ایک لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں۔آپ کا قانونی دماغ ان دنوں بھی کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و بہبودی میں کام کر رہا تھا۔اس کا کسی قدر اندازہ آپ کے ایک خط سے ہو سکتا ہے جو آپ نے فروری ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ ادل کی خدمت میں لکھا۔انگریزی حکومت میں رائج شدہ شرع محمدی (Law Mohammaden سے