تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 349 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 349

تاریخ احمدیت جلد ۳ 341 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر اور اپنے ایک شاگرد کو وہ کاغذ دیا کہ لفافہ میں بند کر کے اپنے پاس رکھو۔یہ وصیت شائع نہ ہوئی کو کئی لوگوں کو اس شاگرد کے ذریعہ سے اس کے مضمون سے آگاہی حاصل ہو گئی۔اس کے بعد صحت ہو جانے پر آپ نے وہ لفافہ لے کر پھاڑ دیا۔جس قلم اور دوات کے ساتھ یہ وصیت لکھی تھی وہ اب تک عاجز (یعنی حضرت مفتی صاحب - ناقل) کے پاس محفوظ ہے"- ان لاہوری ممبروں کو جو نظام خلافت ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کے خواب دیکھ رہے تھے یہ وصیت سخت شاق گذری اور ان کو اس سے از حد تشویش ہوئی۔چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو حضور کے بعض کلمات سن کر از خود کہا کہ کیا یہ لکھ دیا جاوے کہ یہی حضور کی وصیت ہے ؟ اس میں اس تشویش و اضطراب کی جھلک نمایاں نظر آ رہی تھی۔ڈاکٹر صاحب " یہی وصیت ہے " کے الفاظ سے پہلی وصیت کو کالعدم قرار دینا چاہتے تھے یہ ایسی کھلی بات تھی کہ تماعت میں اس کا چر چا شروع ہو گیا حتی کہ خود حضرت خلیفتہ المسیح اول کو اصل حقیقت واضح کرنا پڑی کہ اس وصیت کی نوعیت اور ہے اور اس کی اور۔چنانچہ اخبار الحکم میں ایوان خلافت" کے عنوان سے یہ واقعہ اشارہ موجود ہے لکھا ہے۔۲۲ / جنوری ۱۹۱۱ ۹۶ بجے رات شیخ تیمور صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے جو چند کلمات ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو رخصت کرتے وقت فرمائے تھے ان کی نسبت کچھ شور ہوا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے جو یہ کہا تھا کہ حضور کی یہی وصیت ہے اس کا بھی چر چاہے فرمایا کہ لوگ تو بے سمجھ ہیں یہ تو چند ضروری باتیں تھیں جو ڈاکٹر صاحب کو میں نے کسی تھیں۔مصیبت کے وقت انسان کے اندرونی حالات کا پتہ لگ جاتا ہے اور میں تو وہی کہتا ہوں۔جو میرے دل میں ہوتا ہے۔فرمایا۔میری باتوں میں اختلاف نہیں ہو تا۔یہ جو اس وقت کی ہے یا جو کسی اور وقت کسی ہے کوئی باہم متخالف نہیں۔" صحت یاب ہونے کے بعد گو آپ نے یہ وصیت چاک کردی مگر اس کے بعد اپنی وفات تک برابر مختلف پیرایوں میں اس امر کا اظہار فرماتے رہے کہ آئندہ خلافت اس وصیت کے مطابق ہی قائم ہوگی مثلاً ا قاضی رحمت اللہ صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں ایک ردیاء لکھا جس پر آپ نے تحریر فرمایا کہ میرے بعد میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ہوں گے۔آپ فرماتے تھے ”محمود کی خواہ کوئی کتنی شکایتیں ہمارے پاس کرے ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہمیں تو اس میں وہ چیز نظر آتی ہے جو ان کو نظر نہیں آتی۔یہ لڑکا بہت بڑا بنے گا۔اور اس سے خدا تعالٰی عظیم الشان کام لے گا۔۳۔یکم دسمبر ۱۹۱۲ء کو آپ نے بعد نماز عصر سورہ اعراف کی آیت و لقد اخذنا ال فرعون بالسنین کا درس دیتے ہوئے فرمایا۔" تیس برس کے بعد انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ مجدد یعنی موعود ۱۳۷