تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 348
تاریخ احمدیت جلد ۳ 340 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر مقرر کرنا مناسب نہیں۔جس پر بعض دوست اعتراض کرتے ہیں۔حضرت حافظ صاحب نے بتایا کہ میں نے مولوی صاحب کے منشاء کے مطابق یہ پیغام حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پہنچا دیا۔اور مولوی محمد علی صاحب کا نام نہیں لیا۔اور جیسا کہ انہوں نے کہا تھا محض عمومی رنگ میں یہ بات کہہ دی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ان اکرمکم عند الله اتقاکم مجھے محمود جیسا ایک بھی متقی نظر نہیں آتا۔پھر از خود فرمایا کہ کیا میں مولوی محمد علی صاحب سے کہوں کہ وہ نماز پڑھا دیا کریں؟ ایک دفعہ خطبہ جمعہ دیتے ہوئے صاف لفظوں میں فرمایا : ایک نکتہ قابل یا د سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش رک نہیں سکا۔اور وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے ۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی ۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خاص بھلائی کے لئے کسی ہے "۔aaa یہ اور اس نوعیت کے متعدد واقعات سے بالبداہت نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ بعض آسمانی بشارات کے مطابق یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ کے بعد سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ ہی خلیفہ ہوں گے۔اسی کامل یقین کے مطابق جب آپ نے گھوڑے سے گرنے کے بعد ۱۹/۲۰ کی درمیانی شب کے آخری حصہ میں ایک وصیت لکھی جس کی تفصیل اخبار بدر میں ان الفاظ میں شائع ہوئی۔” درمیانی شب جمعرات و جمعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ قلم دوات کاغذ لاؤ۔میں کچھ لکھ دوں۔پچھلی رات کا وقت تھا سوائے شیخ تیمور صاحب ایم۔اے کے جو دیگر رات کو وہاں رہنے والے خدام موجود تھے ان کو بھی باہر جانے کا حکم دیا ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے کچھ لکھا اور اسے ایک لفافہ میں بند کرا کر اپنا انگوٹھا لگایا اور پھر ایک دوسرے کاغذ پر بھی کچھ لکھ کر وہ بھی ایک لفافہ میں بند کرا دیا۔اس دو سرے کاغذ میں ایک سطر شیخ تیمور صاحب سے بھی لکھوائی اور نیچے اپنے دستخط کر دیے۔اور ان کی اشاعت سے منع کیا"۔یہ وصیت کیا تھی ؟ مولوی محمد علی صاحب اپنی کتاب "حقیقت اختلاف " میں تحریر کرتے ہیں۔اپنی پہلی بیماری میں یعنی 1911 ء میں جو وصیت آپ نے لکھوائی تھی اور جو بند کر کے ایک خاص معتبر کے سپرد کی تھی اس کے متعلق مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بعد خلیفہ ہونے کے لئے میاں صاحب کا نام لکھا تھا یہ وصیت بعد میں بند کی بند ضائع کر دی گئی " 10 حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں: آپ نے رات کے وقت قلم دوات طلب کی اور ایک کاغذ پر صرف دو لفظ لکھے۔خلیفہ - محمود- ۱۳۵