تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 343
تاریخ احمدیت جلد ۳ 335 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر حمیدہ پر روشنی پڑتی ہے۔1- ایک دفعہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بلا کر ارشاد فرمایا کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اخبار میں اعلان کر دیں کہ اگر کسی شخص کا روپیہ میرے پاس امانت ہو یا قرض ہو یا کسی وجہ سے دیا ہو یا کسی مریض نے آپ کو کچھ معالجہ کے واسطے دیا ہو اور اس کے خیال میں اس کا حق اسے نہ ملا ہو تو مجھ سے مطالبہ کر کے وصول کرلے۔۲ ۱۳/ دسمبر ۱۹۱۰ء کو یوم النحر تھا۔مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول اس روز ہائی سکول کے طلبہ کو باہر ٹورنامنٹ پر بھجوانا چاہتے تھے حضرت کو یہ بات سخت ناگوار گذری اور آپ نے مولوی صدر الدین صاحب سے فرمایا۔میں تو ہرگز ہر گز پسند نہیں کرتا اور جائز نہیں سمجھتا کہ عید کے دن سفر کیا جاوے نیز فرمایا۔اگر تمہیں کوئی خوف ہے تو لکھ دو کہ نور الدین نے اجازت نہیں دى۔- بیماری میں آپ ہمیشہ مصروف دعا رہتے تھے۔خصوصاً یوم العرفہ کو آپ نے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت دعاؤں کے لئے مخصوص فرمالیا۔اس وقت آپ بالکل تخلیہ میں تھے اور کسی شخص کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔اس وقت آپ نے نہایت درجہ سوز و گداز سے اور دعاؤں کے علاوہ یہ بھی دعا کی کہ اے میرے موٹی میں ان لوگوں کے ساتھ مل کر دعا کرتا ہوں جو آج عرفات میں ہیں۔- خواجہ کمال الدین صاحب پہلی دفعہ عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور ذکر کیا کہ علی گڑھ میں میرا لیکچر تھا۔مگر آپ کی بیماری کی وجہ سے میں نے معذرت کر دی۔حضرت نے فرمایا۔نہیں میری علالت اس تبلیغ کے کام میں روک نہ ہو۔وہاں ضرور جانا چاہئے میں اپنے وجود کو کسی طرح بھی اسلام کے کام میں روک بنانا نہیں چاہتا بلکہ میری تو آرزو یہی ہے کہ میں اسلام ہی کی خدمت میں زندگی پوری کروں۔ایک روز حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے عرض کیا کہ موجودہ ہندو مسلم کشمکش کا اثر کیا ہو گا فرمایا۔میں نے اس پر بہت غور کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ مسلمانوں میں بھی قومیت کی روح پیدا ہو جائے گی۔۔۔میں اس کو مسلمانوں کے لئے مفید سمجھتا ہوں۔ایک خادم نے جو امرت سرسے عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا۔عرض کی کہ اشاعت اسلام کے نام سے دو سرے لوگ ہم سے چندہ مانگتے ہیں کیا کیا جاوے۔حضرت نے فرمایا۔اشاعت اسلام تو ایک مبارک اور مفید کام ہے اور اس کام کے لئے ہمیں بہت تڑپ ہے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا میں پھیلے۔مگر جو لوگ ہمارے سلسلہ کے دشمن ہیں اور اشاعت اسلام کرنا چاہتے ہیں ان کے متعلق