تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 344 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 344

تاریخ احمدیت جلد ۳ 336 قادیان میں متعدد پالک عمارتوں کی تعمیر قابل غور یہ امر ہے کہ کیا وہ موید من اللہ اور منصور ہیں یا نہیں اس کے بعد آپ نے واقعاتی شہادتیں دیں۔اور بالوضاحت بتایا کہ یہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔اندریں صورت ہم اپنے اموال ان کے سپرد کیوں کریں ؟ جناب الہی کا یہ منشاء نہیں کہ ان کی تائید کرے بر خلاف اس کے اس سلسلہ (احمدیہ) کو اللہ تعالی نے الحاصیں اسلام کا اور یہ اجالا ہو اور رشتوں کی مخالفت کے بار او را یک بوی خاصی اس خدمت کے لئے تیار کر دی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے اسی سلسلہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے ذریعہ یہ کام ہو گا۔۔آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ کے بھتیجے سائیں عبدالرحمن صاحب اپنی امانت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری رسید کم ہو گئی ہے۔حضرت نے فرمایا۔ہماری امانتوں کا انتظام خدا کے فضل سے بہت محفوظ ہے اور ہر شخص اپنی امانت جس وقت چاہے لے سکتا ہے۔ہم امانت کو اسی طرح رکھتے ہیں جس حالت میں کوئی دیتا ہے۔ہمارے گھر والے بھی اسے خوب جانتے ہیں کسی امانت پر جو ہمارے پاس ہو ہماری زندگی یا موت سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔اور رسید کے بارے میں فرمایا کچھ پرواہ نہیں اس کی امانت کے ساتھ رسید ہو گی اسے دیکھو اور ابھی دے دو۔چنانچہ جب اس کی امانت دیکھی گئی تو واقعی اسکے ساتھ حضرت کے ہاتھ کی لکھی ہوئی رسید موجود تھی اور اس کے ساتھ ہی امانت کا روپیہ تھا۔جو اسی وقت ادا کر دیا گیا۔ایک روز مغرب کی نماز کے بعد جبکہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم اور بعض اور احباب آپ کی مجلس میں حاضر تھے آپ نے فرمایا۔میری آمدنی کا ذریعہ بظا ہر طب تھا اب اس رشتہ کو بھی اس بیماری نے کاٹ دیا ہے میری بیوی نے آج مجھے کہا کہ ضروریات کے لئے روپیہ نہیں۔اور مجھے یہ بھی کہا کہ مولوی صاحب آپ نے کبھی بیماری کے وقت کا خیال نہیں کیا۔۔۔۔میں نے اسے کہا کہ " میرا خدا ایسا نہیں کرتا میں روپیہ تب رکھتا جو خداتعالی پر ایمان نہ رکھتا"۔شیخ صاحب نے عرض کیا کہ ڈاکٹر اور دوسرے لوگ اس بیماری میں آپ کی خدمت اپنی سعادت سمجھتے ہیں فرمایا۔مجھ پر تو خدا کا فضل ہے اور یہ بھی فضل ہے۔آپ یہ بیان فرماہی رہے تھے کہ شیخ محمد تیمور صاحب نے آپ کی خدمت میں شیخ محمد اسماعیل صاحب ( ولد حاجی امیر الدین صاحب تاجر چرم) حیدر آباد (سندھ) کا خط سنایا جو تازہ ڈاک سے آیا تھا۔وہ بیمار ہوئے انہوں نے ایک سو روپیہ حضور کی خدمت میں بطور نذر خاص بھیجا۔اس پر وہ اچھے ہو گئے پھر دوسرے دن ایسا ہی اتفاق ہوا۔تو انہوں نے پچیس اور بھیجے۔علاوہ از میں پنڈ دادنخاں سے بھی ایک خط ملا۔کسی شخص نے لکھا تھا کہ جب آپ پنڈ دادنخان میں مدرس تھے۔اس وقت کی چار روپیہ کی چونیاں آپ کی میرے ذمہ ہیں۔اب وہ بھیجنا چاہتا ہوں یہ دونوں خط حضرت