تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 342 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 342

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 334 قادیان میں متعدد پالک عمارتوں کی تعمیر عشق کا جو جذبہ ابتداء سے آپ میں موجزن تھا۔وہ اس بیماری میں عروج تک پہنچ گیا۔چنانچہ ان دنوں آپ کا سب سے محبوب مشغلہ قرآن مجید پر غور و تفکر تھا۔آپ لیٹے لیٹے قرآن مجید کے مضامین پر غور فرماتے تھے۔ایک دن نماز مغرب کی نیت باندھی اور ساتھ ہی قرآنی آیت پر غور شروع ہو گیا۔قریبا دو گھنٹہ اسی حالت میں گزر گئے اور نماز پوری نہ ہو سکی تو فرمایا۔کیا کروں نماز نہیں پڑھی گئی۔(مگر یہ عجیب کمال ہے کہ آپ نے اس دوران میں کوئی نماز قضا نہیں ہونے دی)۔ایک دفعہ فرمایا ایک نکتہ معرفت میرے کان میں پہنچا۔میری بیوی نے کہا۔آپ جانتے ہیں؟ کہ آپ کو تکلیف کیوں پہنچی۔میں نے کہا اللہ کے مخفی در مخفی راز ہیں۔کہا ایک وجہ میرے خیال میں بھی آئی ہے کہو تو سناؤں۔میں نے کہا ہاں۔کہنے لگی تمہاری عادت تھی جمعہ کے بعد دعاؤں میں لگے رہتے۔تم وہ دعا کا وقت چھوڑ کر ایک امیر کو ملنے چلے گئے۔مجھے یہ نکتہ بہت پیارا لگا۔ابتداء میں جب بیماری کی تکلیف زیادہ تھی آپ حافظ محمد ابراہیم صاحب اور قاری محمد یاسین صاحب وغیرہ دوستوں سے قرآن مجید ذوق و شوق سے سنتے۔II ایک روز آپ پر سخت رقت طاری ہوئی اور روپڑے نیز فرمایا۔کہ کیا قادیان میں کوئی حافظ نہیں ہے؟ کوئی مجھ سے قرآن نہیں سنتا اور نہ سناتا ہے۔یہ تو مرض کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔جب قدرے افاقہ ہوا تو آپ نے لیٹے لیٹے قرآن مجید سنانا اور درس دینا شروع کر دیا۔ڈاکٹروں نے اس پر عرض کیا کہ اس سے بیماری پر اثر پڑے گا۔تو آپ نے فرمایا۔نور الدین کو درس قرآن سے مت رو کو یہ نور الدین کی غذا ہے۔چنانچہ آپ بیماری کی حالت میں شیخ محمد تیمور صاحب اور ایک غیر احمدی مولوی محمد شفیق کو قرآن شریف اور حدیث پڑھاتے رہے۔آپ کی بیماری سے جماعت کو جو نقصان پہنچا اس میں آپ کے درس قرآن کی محرومی سب سے بڑا نقصان تھا جس کا آپ کو خود بھی بہت احساس تھا چنانچہ آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو حکم دیا کہ عصر کے بعد قرآن مجید کا درس دیا کریں اور اگر وہ ناسازی طبع کی وجہ سے نہ دے سکیں تو مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب درس دیں اگر وہ بھی نہ دے سکیں تو قاضی امیر حسین صاحب درس | 1** دیں چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے ۱۳ / فروری 1911 ء سے درس شروع کر دیا - 21 حفاظ بلا کر قرآن مجید سننے کا مشغلہ بیماری کے دنوں میں صبح شام رہا۔قرآن مجید کے علاوہ آپ بخاری شریف اور عمدۃ الاحکام بھی سنتے رہتے جس سے آپ کے عشق رسول کے زبر دست جذبہ کا اندازہ ہوتا ہے۔اب میں آپ کی علالت کے دوران کے بعض واقعات لکھتا ہوں جن سے آپ کی غیر معمولی احتیاط بے مثال تو کل زبر دست جرات، بے نظیر عشق مسیح موعود اور شاندار فیاضی وغیرہ اوصاف