تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 341 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 341

اریخ احمدیت۔جلد ۳ 333 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر له من الله یعنی جب کوئی بندہ اس مقام پر جو اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتا۔تو اللہ تعالٰی اس کو جسم مال یا اولاد کے دکھ میں مبتلا کر دیتا ہے اور اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔اور اس طرح اسے اس مقام پر فائز کر دیتا ہے جو جناب الہی سے اسکے لئے پہلے سے مقدر ہو چکا ہے۔اسی طرح سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تحریر فرماتے ہیں: نبیوں اور راستبازوں پر جو بلا ئیں آتی ہیں ان کو ایک صبر جمیل دیا جاتا ہے جس سے وہ بلا اور مصیبت ان کے لئے مدرک الحلاوۃ ہو جاتی ہے وہ اس سے لذت اٹھاتے ہیں اور روحانی ترقیوں کے لئے ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے درجات کی ترقی کے لئے ایسی بلاؤں کا آنا ضروری ہے جو ترقیات کے لئے زینہ کا کام دیتی ہیں"۔الفاظ وفا نہیں کرتے تو اس لذت کو بیان کر سکیں۔جو اخیار و ابزار کو ان بلاؤں کے ذریعہ آتی ہے۔یہ مصیبت کیا ہے ایک عظیم الشان دعوت ہے جس میں قسم قسم کے انعام واکرام اور پھل اور میوے پیش کئے جاتے ہیں۔خدا اس وقت قریب ہوتا ہے فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں اللہ تعالی کے مکالمہ کا شرف عطا کیا جاتا ہے اور وحی اور الہام سے اس کو تسلی اور سکینت دی جاتی ہے لوگوں کی نظروں میں یہ بلاؤں اور مصیبتوں کا وقت ہے مگر دراصل اس وقت اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض کی بارش کا وقت ہوتا ہے۔۔۔غرض میں کہاں تک بیان کروں کہ ان بلاؤں میں کیا لذت اور مزا ہوتا ہے اور عاشق صادق کہاں تک ان سے محظوظ ہوتا ہے مختصر طور پر یاد رکھو کہ ان بلاؤں کا پھل اور نتیجہ جو ابرار او را خیار پر آتی ہیں جنت اور ترقی درجات ہے "۔یہ روحانی رنگ جس کا نقشہ حضور علیہ السلام نے کھینچا ہے حضرت خلیفہ اول کی اس بیماری میں آنکھوں کے سامنے عملاً آگیا۔جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے اس حادثہ کے پیش آتے ہی آپ نے سب سے پہلا کلمہ یہ کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواب پوری ہوئی۔ایک روز فرمایا کہ "میری اس علالت میں کوئی عظیم الشان منشاء سرکاری معلوم ہوتا ہے جو اتنے سال پہلے مرزا کو یہ واقعہ دکھایا۔۔۔۔۔اور پھر اس واقعہ کو اسی رنگ میں پورا کر کے دکھایا اور مجھے چار پائی پر ڈال دیا"۔گھوڑے سے گرنے کے کچھ وقت بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی حافظ ہے تو قرآن سنائے چنانچہ پہلے حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب نے پھر حافظ سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے قرآن پڑھا۔حضور نے فرمایا مجھے آپ کے والدین پر رشک آتا ہے کہ کیسی نیک اولاد اللہ تعالٰی نے ان کو دی ہے۔قرآن سے