تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 340 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 340

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 332 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر کثرت ہے ۰۴ اوزنی اور شکر زیادہ تھی علاج کیا۔شکر خود بخود دور ہو گئی رات کو دوبار دن کو دو بار پیشاب آتا ہے عصر و مغرب کے درمیان پیاس ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔اسپغول بہت کھایا اور مفید ہوا۔اب پانچ روز سے درس دیتا ہوں۔والحمد لله رب العلمين"۔حضرت خلیفہ اول نے اوپر ڈاکٹر میجر ہرڈ (Herd) کا ذکر فرمایا ہے یہ ڈاکٹر صاحب میڈیکل کالج لاہور کے مشہور پروفیسر تھے جو 19 / جنوری 1911ء کو دوپہر کے وقت قادیان آئے انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا طبی معائنہ کیا نبض دیکھی تو کہا یہ نبض تو جوانوں کی سی ہے جیسے تیس سالہ جوان ہوتا ہے بڑھاپے میں ایسی حالت کبھی میں نے نہیں دیکھی تھرما میٹر لگایا ، پیشاب کا ٹیسٹ کیا اور دوبارہ اپنے ہاتھ سے مرہم پٹی کی اور تسلی دلائی کہ زخم کی حالت اچھی ہے تدریجا بھر جائے گا۔چنانچہ خدا کے فضل سے چند دن میں ہی ماشرہ کا دورہ ختم ہو گیا۔بخار بھی اتر گیا اور آہستہ آہستہ جسم میں قوت و طاقت آنی شروع ہو گئی۔اور گو دوسرے عوارض درمیان میں چلتے رہے۔مگر صحت میں بہر حال ترقی ہوتی گئی حتی کہ آپ اپریل کے تیسرے ہفتہ میں پہلی بار اپنے گھر سے چل کر اپنے مطب تک تشریف لائے۔اور تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے ۲۱ / اپریل کو آپ پالکی میں بیٹھ کر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کو ٹھی میں تشریف لے گئے اور دن بھر وہاں رہے اب آپ درس حدیث دینے اور بیماروں کو بھی دیکھنے لگے۔19 مئی 1911ء کو آپ نے علالت کے بعد سب سے پہلا جمعہ پڑھایا جس میں دوستوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔اس کے بعد وسط جون 1911ء میں آپ نقاہت وضعف کے باوجود نماز صبح کا درس دینے لگے۔درس کے بعد بیماروں کو دیکھتے پھر تفسیر جلالین پڑھاتے اور ادبیات کا درس دیتے۔نیز اصول فقہ کی کتابیں پڑھاتے۔ظہر کے بعد مسلم شریف اور دیگر کتب کا درس ہو تا۔شام کے بعد طب پڑھاتے غرضیکہ قریباً سات ماہ بعد آپ کے علمی مشاغل بہت حد تک پھر معمول پر آگئے۔البته درس قرآن جو آپ مسجد اقصیٰ میں دیا کرتے تھے۔کئی ماہ کے بعد 9 / اکتو بر ۱۹ ء کو شروع ہوا۔اور جماعت جو کم و بیش ایک سال سے اس نعمت عظمی سے محروم ہو گئی تھی اسے پھر سے یہ نعمت میسر آگئی۔فالحمد لله على ذالك۔حضرت خلیفہ اول کے مقام عشق و خدا کے مرسلین اور ان کے خلفاء اور دوسرے اہل اللہ کی بیماری دراصل ان کے مدارج کی فدائیت کے ایمان افروز واقعات بلندی کے لئے ایک زینہ کا کام دیتی ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ان العبد اذا سبقت له من الله منزلة لم يبلغها بعمله ابتلاء في جسده او ماله او في ولده ثم صبر على ذالك حتى يبلغه المنزلة التي سبقت •