تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 339 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 339

تاریخ احمد بیت - جلد - 331 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر مصروف ہو گئے اور جماعتی رنگ میں بھی دعائے خاص کی مسلسل تحریکیں ہونے لگیں۔کئی دوستوں نے اصرار کیا کہ مرکز سے روزانہ بذریعہ کار ڈان کو اطلاع دی جائے چنانچہ اس کا اہتمام بھی کیا گیا۔غرضکہ مخلصین جہات نے خلیفہ وقت ہے اس موقعہ پر جس فدائیت و شیدائیت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے ایک روز جناب باری میں عرض کی کہ اے موٹی 1 حضرت نوح کی زندگی کی ضرور تیں تو مختص المقام تھیں۔اور اب تو ضرور تیں جو درپیش ہیں ان کو بس تو ہی جانتا ہے۔ہماری دعا قبول کر اور ہمارے امام کو نوح کی سی عمر عطا کر "۔شیخ محمد حسین صاحب (لائل پور) نے دعا کی کہ حضرت صاحب کی بیماری مجھ کو آجائے اسی طرح سید ارادت حسین صاحب سونگھیری نے اپنی دعا میں جناب باری سے التجا کی میری عمر دو سال کم ہو کر حضرت صاحب کو مل جائے ان دعاؤں کے علاوہ دوستوں نے صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کیا۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔" یہ خوشی کی بات ہے کہ بیماری کے ایام میں جماعت اللہ کی طرف متوجہ ہے "۔اس موقعہ پر احمدی ڈاکٹروں نے بھی علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا جس پر حضرت نے خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری اور اس کے کوائف اس حادثہ میں جو ستر برس کی عمر میں آپ کو پیش آیا آپ کے سر کو سخت چوٹ لگی اور بہت خون بہہ گیا تھا۔جس کی وجہ سے تین برس تک یہ بیماری کسی نہ کسی شکل میں چلتی رہی اور قریبا سات ماہ تک آپ کو بستر علالت پر رہنا پڑا۔حضرت خلیفہ اول ۱۶/ ستمبر ۱۹۱۳ء کو اپنے قلم سے اس بیماری کے کوائف اس طرح لکھتے ہیں: گھوڑے سے گر اسخت کھنگر تھے جو اس باختہ ہو گیادا ئیں طرف زخمی ہوئے اسہال کا مرض تو جاتا رہا۔ہفتہ بھر کے بعد شقیقہ شروع ہوا۔سمجھ میں نہ آئے درجن ڈاکٹر حیران آخر میراسماعیل ڈاکٹر نے کہا۔ابرو کے زخم سے رجنہ کو خون پہنچا ہے۔اور وہ ریح بن گیا۔آخر بخلاف رائے ڈاکٹر ان صدغ پر اپریشن ہوا۔ریح نکلی درد کو آرام آگیا۔ساتویں روز شدید ماشرا ہو گیا۔زخم بالکل اصفر ہو گیا۔ہرڈ مشہور پروفیسر کو بلایا اس نے رائے دی علاج ترک کرد و قدرت پر رکھو صرف اکھتول گلیسرین سر اور منہ پر لگا دیں بارے ہفتہ کے بعد انحطاط شروع ہوا اور اپریشن کا زخم ناسور بن گیا۔پیشاب کی کثرت ہو گئی شدت کا ہزال ہوا۔ایک مخلص نے سونا اور فولاد دکھلایا۔چالیس روز کھایا۔منہ بند تھا سیال اشیاء گذر جائیں۔تین برس کے بعد ناسور اچھا ہوا۔اور نظر بھی درست ہو گئی اب ذیا بیطس اور عطش کی