تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 332 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 332

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 324 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر حضرت خلیفہ اول کو تھوک کے حضرت صاحبزادہ صاحب کی اقتداء میں نماز جمعہ ساتھ خون آنے کی شکایت ہو گئی تھی اور آپ جمعہ نہیں پڑھا سکتے تھے۔اس لئے آپ نے ۲۶ / اگست ۱۹۱۰ء کے جمعہ کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو امام و خطیب مقرر فرمایا اور ان کے مقتدی کی حیثیت سے نماز پڑھی۔ابتدائی سنتیں کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے بیٹھ گئے مگر نماز جمعہ کھڑے ہو کر ادا فرمائی۔اس دن نماز مغرب کے بعد آپ نے اپنی نواسی کا نکاح بھی بیٹھ کر پڑھا۔۲۸-۲۷ / اگست ۱۹۱۰ء کو میرٹھ میں ایک اسلامی انجمن کا جلسہ ہوا۔جس میں حضرت جلسہ میرٹھ خلیفتہ المسیح کے حکم سے حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت مولوی سید سردر شاہ صاحب شیخ محمد یوسف صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا الیعقوب بیگ صاحب نے شرکت کی مگر تقریر وقت کی قلت کے باعث موخر الذکر دو اصحاب کی ہوئی۔خصوصاً خواجہ کمال الدین صاحب کا لیکچر بہت کامیاب رہا۔ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الهام تھا۔” ایک مشرقی طاقت اور کو ریا کی نازک حالت" یہ الہام ستمبر ۱۹۱۰ء میں بعینہ پورا ہوا جبکہ کو ریا کو جاپان نے مالیا نی مدرسہ "اصلاح دارین" کے چند صتمین کی مکفرین کے ایک اشتہار کا جواب طرف کے ایک فتوئی شائع ہوا کہ جو شخص احمد یوں کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور فتویٰ کے آخر میں چند باتیں لکھیں جو ان کے خیال میں احمدیوں کے کفر پر دلیل تھیں۔حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو یہ فتویٰ پہنچا تو آپ نے " کمفرین کے ایک اشتہار کا جواب" کے نام سے اس کا مدلل و مسکت جواب شائع فرمایا - Kia مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کال لاہور حضرت خلیفہ اول نے مولوی غلام رسول صاحب راجیکی کو قادیان بلوا لیا تھا اور آپ کو میں تقرر۔اور منکرین خلافت کی حالت پہلے تو مدرسہ تعلیم الاسلام کی پانچویں سے دسویں جماعت کی عربی تعلیم پر مقرر فرمایا بعد ازاں آخر ۱۹۱۰ء میں جماعت لاہور کی اصلاح و تربیت اور سلسلہ کی تبلیغ کے لئے لاہور بھیج دیا۔لاہور کی جماعت کے مقامی امام حضرت مولوی غلام حسین صاحب چوٹی کے ممتاز علماء میں سے تھے مگر درویش سیرت اور مسکین طبع ہونے کی وجہ سے اپنی شہرت پسند نہ کرتے تھے۔ہر وقت مطالعہ کتب