تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 333 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 333

تاریخ احمدیت جلد ۳ 325 قاد یا ان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر اور درس و تدریس میں مستغرق اور منہمک رہتے تھے۔نہایت بڑھاپے کی عمر میں اپنی ایمانی قوت اور الهامی راہ نمائی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور آخر عمر تک اپنے عمد بیعت پر کمال خلوص و عقیدت سے قائم رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ "عام طور پر انبیاء کے مانے والے ان سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں بڑے بوڑھے بہت کم مانتے ہیں مگر مولوی غلام حسین خاں لاہوری اور بابا ہدایت اللہ صاحب شاعر لاہوری یہ دونوں ایسے ہیں جو بڑے اور بوڑھے ہو کر ایمان لائے ہیں۔مولوی صاحب یکم فروری ۱۹۰۸ء کو انتقال فرما گئے آپ کی نعش کو حضرت مسیح موعود نے کندھا دیا اور آپ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے آپ کی وفات کے بعد جماعت لاہور میں ایک بہت بڑا خلا واقع ہو گیا۔اور خصوصاً احمد یہ بلڈ نگس کے ممبران اور ان کے ماحول کی اصلاح و تربیت کے لئے ایک عالم دین کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔جس پر خود جماعت لاہور کی درخواست پر حضرت خلیفہ اول نے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو لاہور کا مبلغ مقرر فرمایا۔لاہور کی گئی والی مسجد میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب امامت کرایا کرتے تھے غیروں کے قبضہ میں چلی گئی تھی اس لئے احباب لاہو ر اب احمد یہ بلڈ نگس میں نمازیں ادا کرنے لگے تھے مولوی صاحب نے احمد یہ اللہ نگس ہی کو اپنی اصلاحی و تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔چنانچہ روزانہ صبح کو قرآن مجید کا درس دیتے اور شام کے بعد بخاری شریف کا۔اور عہد خلافت اوٹی کے آخر تک یہ فریضه نهایت خوش اسلوبی سے نباہتے رہے۔احمد یہ بلڈنگس میں صدر انجمن کے چاروں ممبر جو فتنہ انکار خلافت میں پیش پیش تھے آپ سے قرآن و حدیث اور بعض دوسری کتب پڑھتے تھے خصوصاً خواجہ کمال الدین صاحب نے قرآن کے علاوہ زاد المعاد اور علم نحو کی کتاب آپ سے پڑھی۔لیکچروں کی تیاری میں قرآنی آیات کے حوالے اور ان کے ترجموں میں بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے تھے۔مولانا راجیکی صاحب نے اس زمانہ کے حالات اپنے قلم سے لکھے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ احمدیہ بلڈ نگس کے چاروں ممبران انجمن 1909 ء میں دو دفعہ معافی مانگنے کے بعد تمرد اور سرکشی میں اور بھی بڑھ گئے تھے۔چنانچہ جب آپ شروع شروع میں وہاں گئے تو انہوں نے رسالہ "الوصیت آپ کے سامنے رکھ کر نہایت درجہ مداہنت سے پوچھا کہ مولانا آپ جماعت کے بلند پایہ عالم ہیں اس عبارت کا مطلب ہمیں بتائیں کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد انجمن ہی جانشین ثابت ہوتی ہے یا اس میں کسی شخصی خلافت کا بھی ذکر پایا جاتا ہے۔بعض ممبروں نے یہ بھی کہا کہ کیا مولوی نور الدین