تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 304 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 304

تاریخ احمدیت جلد ۳ 296 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک حضرت خلیفہ اول کے بزرگوں کی خاندانی مسجد ایک ایسے محلہ میں واقع ہے جہاں مسجد نور بھیرہ احد کی اور غیر احمدی دونوں رہتے ہیں ابتداء بہت کو شش ہوئی کہ دونوں صلح سے رہیں مگر ایک تھانیدار کے اکسانے پر کشمکش شروع ہو گئی اور فریقین کے مچلکے ہو گئے اور گو فساد تک نوبت نہ پہنچی مگر حضرت خلیفہ اول کو یقین ہو گیا کہ فساد رفع نہیں ہو گا جس پر آپ نے اپنا ایک سہ منزلہ مکان جو مسجد کے متصل تھا ہبہ کر کے مسجد بنوادی۔جواب مسجد نور کے نام سے موسوم ہے اس مسجد کا غربی کمرہ جو اب تک اپنی اصل صورت میں ہے آپ کا مقام ولادت ہے یہ مسجد دوسری منزل پر واقع ہے۔اور نچلے حصہ کی کوٹھریاں بدستور موجود ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے اپنی حویلی کے ہبہ کر کے مسجد بنوانے پر ایک غیر احمدی مولوی نے بذریعہ تحریر اعتراض کیا جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:۔مسجد تو آپ لوگوں اور فتووں نے ہم سے لے لی۔اب ہم اپنا مکان مسجد بنادیں تو ہم شریر۔آہ یہ اسلام ہے۔مولوی صاحب! اتنا بڑا سہ منزلہ عظیم الشان باپ دادا کا مکان کوئی ضائع کرتا ہے۔آپ IAT |IAL] چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت متفرق ہو جاوے۔گویا اس محلہ میں ہم لوگ اللہ کا نام بھی نہ لیں "۔گرلز سکول (مدرستہ البنات) مدرسه البنات کا قیام حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوا۔گرلز سکول (مدرسته البنات) ممر جماعت بندی ۱۹۰۹ء سے ہوئی ابتداء میں کئی سالوں تک اس کا انتظام محترمہ مکتہ النساء صاحبہ کے ہاتھ میں زیر نگرانی ہیڈ ماسٹر صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول رہا۔لیکن پھر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب افسر مدرسہ احمدیہ ان کے نگران مقرر ہوئے۔ابتداء میں حضرت خلیفہ اول کی وقف شدہ زمین سے پانچ سو روپیہ کی رقم سے اس درسگاہ کے لئے ایک مکان خرید ا گیا۔1919ء میں گر لز سکول مبارک منزل متصل مدرسہ احمدیہ میں تھا اس کے بعد قادیان کی آبادی بڑھی تو محلہ دار العلوم میں اس کے لئے ایک وسیع عمارت میسر آگئی اور گرلز سکول وہاں منتقل کر دیا گیا۔دیا نند مت کھنڈن سبھادہلی دہلی اور اس کے ماحول میں آریہ سماج نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زبر دست فتنہ برپا کر رکھا تھا۔جماعت احمد یہ دہلی کے IAT نامور ممبر حضرت میر قاسم علی صاحب نے ملازمت چھوڑ کر ان دشمنان اسلام کے تحریری و تقریری دفاع کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور دہلی میں دیا نند مت کھنڈن سبھا کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔حضرت خلیفہ اول نے اپنی جیب خاص سے اس انجمن کے لئے ایک سورو پسیہ عطا فرمایا۔اس انجمن نے آریوں کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بڑا بھاری کام کیا اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔IAO