تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 303
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 295 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک خوش ہوتے ہیں۔اور اپنی خوشی کا اظہار بھی فرماتے ہیں۔پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر شروع ہوتی ہے تو بجلی کے پنکھے بھی بند کر دئے جاتے ہیں کیونکہ ان کے شور سے آواز اچھی طرح سنائی نہیں دیتی۔اب گویا یہ حالت ہے کہ ہماری باتوں کو نواب صاحب سننے کی پروا نہیں کرتے۔اور نہ اس کی طرف کچھ توجہ فرماتے ہیں اور ان کی ساری ہمدردی فریق مخالف کے ساتھ ہے۔اور بالا خر جب وہ فریق مخالف کے وکیل ہو گئے تو ہمیں یہ مصیبت پیش آئی ہے کہ ہم اپنی باتوں کو کس طرح پیش کر سکیں اور امن کی حالت گویا خطرہ کی حالت میں بدل گئی ہے اور تحریر مصدقہ ہوتی نہیں جس سے پبلک کو بھی کچھ فائدہ ہو سکے"۔جماعت کو ذمہ داریوں کے احساس کی طرف توجہ دلانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے دل میں یہ خیال بہت دفعہ پیدا ہوا کہ حضور کے وجود باجود کے دنیا سے اٹھ جانے سے جہاں اور بہت سے تغیرات دنیا میں ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہاں ہر ایک احمدی کی کوششوں اور جدوجہد میں بھی ایک نمایاں تبدیلی ہونی چاہئے۔چنانچہ جب یہ خیال بہت زور سے آپ کے دل میں اٹھا تو آپ نے تبلیغ اسلام کے عنوان سے ایک اہم مضمون لکھا جو شعید الاذہان میں شائع ہوا۔اس ولولہ انگیز مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے۔" آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے ہم پر بعض نئی ذمہ داریاں پڑی ہیں اور وہ کام جس کو وہ خدا کا برگزیدہ نبی کر تا تھا اب ہمارے سپرد ہوا ہے جس سے اب یہ بات ضروری اور لازمی ہو گئی ہے کہ ہم بھی اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کریں اور ایک خاص جوش ہمارے دلوں میں پیدا ہو اور ہماری ہر قسم کی سستی اور کاہلی کا فور ہو جائے اور ہمارے دل محبت الہی کی بیخود کرنے والی شراب سے لبریز ہوں۔غرض کہ ہم میں ایک ایسی تبدیلی پیدا ہو کہ اس برگزیدہ کی موت سے جو کمی ہم میں پیدا ہو گئی ہے۔اسے خداوند تعالٰی اپنے فضل و کرم سے پورا کر دے"۔صاحبزادگان کا سفر کشمیر یکم جولائی ۱۹۰۹ء سے ۲/ اگست ۱۹۰۹ء تک حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کشمیر میں قیام پذیر رہے A آپ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت میر محمد اسحق صاحب کے علاوہ حضرت مولانا سرور شاہ صاحب بھی تھے۔جو بطور اتالیق گئے تھے۔ان دنوں وہاں موٹریں نہیں ہوتی تھیں۔اور یہ سفریکوں میں طے ہوا تھا۔بعض جگہوں پر گھوڑے کی سواری کی گئی۔کشمیر میں آپ نے تبلیغ کے ساتھ ساتھ روحانی مجاہدات کا خاص خیال رکھا۔