تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 305 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 305

297 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک اخبار "نور" کا اجراء شیخ محمد یوسف صاحب سابق سورن سنگھ) نے اکتوبر ۱۹۰۹ء سے ایک نیا اخبار "نور" کے نام سے جاری کیا جس کا مشن سکھوں میں اسلام کی تبلیغ تھا یہ اخبار تقسیم ہند تک بخیرو خوبی جاری رہا۔اس کے بعد شیخ صاحب نے پاکستان میں آکر گوجرانوالہ سے اسے دوبارہ نکالنا شروع کیا مگر افسوس چند پرچے ہی شائع ہوئے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔سکھوں میں تبلیغ اسلام کی کوئی تاریخ شیخ محمد یوسف صاحب کے جاری کردہ اخبار نور اور ان کے شائع کردہ لٹریچر کے بغیر مکمل نہیں قرار دی جا سکتی۔اخبار نور پہلا نیا اخبار ہے جو خلافت اولیٰ کے عہد ۱۱۸۵ مبارک میں جاری ہوا۔ای سال وسط نومبر میں دوسرا مشہور مباحثہ منصوری میں ہوا۔حضرت خلیفتہ مباحثہ منصوری المسیح اول کے حکم سے قادیان سے جو وفد گیا اس میں مولوی محمد علی صاحب۔حضرت حافظ روشن علی صاحب۔شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب شامل تھے۔دہلی سے حضرت میر قاسم علی صاحب اور لاہور سے مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کو پہنچنے کا ارشاد ملا۔روانگی کے وقت حضرت خلیفتہ المسیح اول نے مولوی محمد علی صاحب کو امیر قافلہ مقرر فرمایا اور دوسروں کو ان کی اطاعت کی تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ پر توکل کرد۔لوگوں کے ساتھ ان کی سمجھ کے مطابق بات کرو۔اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی نگہداشت کرد و اثبتوا واذكروا الله کثیر ا پر عمل کرو یعنی ثابت قدمی اختیار کرو اور اللہ تعالی کو بہت یاد کرو اور دعاؤں میں مصروف رہو اور تمہارے دل کے گوشہ میں سوائے عظمت الہی کے کچھ نہ ہو۔اس مباحثہ کے لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بلانے کے لئے تار پر تار دئے گئے بلکہ کرایہ کی رقم بھی بذریعہ تار بھجوائی گئی مگروہ نہ آئے۔اس لئے مولوی محمد بیٹی صاحب بهاری مدرس مدرسہ مظاہر العلوم پیش ہوئے اور احمدیوں کی طرف سے حضرت میر قاسم علی صاحب نے مناظرہ کیا۔اس مباحثہ کے دو موضوع تھے (1) حیات و وفات مسیح (۲) دعاوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔خدا کے فضل سے دونوں موضوع میں احمدی مناظر کو کامیابی نصیب ہوئی۔۱۹۰۹ء کے آخر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے انجمن ارشاد کا قیام انجمن حمید الا زبان کے بعد دوسری انجمن ارشاد " بنائی جس کا مقصد دشمنان اسلام کے اعتراضوں کار دو ابطال تھا۔"