تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 302
تاریخ احمدیت - جلد ۳ مباحثه رامپور 294 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے مکین خلافت کے نشان کی۔خان صاحب ذو الفقار علی خان صاحب نے (جو ریاست رام پور میں ایک معزز عہدہ پر ممتاز تھے ) حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں خط لکھا کہ نواب صاحب رام پور احمد ی اور غیر احمدی علماء کا مباحثہ کرا کے سلسلہ کی حقانیت معلوم کرنا چاہتے ہیں چونکہ مباحثہ کی خواہش ایک والی ریاست کی طرف سے تھی۔اور یہ خیال تھا کہ عوام الناس کا اس میں کچھ دخل نہ ہو گا اور گفتگو متانت و شائستگی سے ہو گی۔لہذا حضرت خلیفتہ المسیح نے اس کی اجازت دے دی۔چنانچہ یہ مباحثہ ۱۵/ جون سے ۱۹ جون ۱۹۰۹ء تک جاری رہا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب حضرت مولوی سرور شاہ صاحب مولوی مبارک علی صاحب۔حضرت حافظ روشن علی صاحب مولوی محمد علی صاحب۔خواجہ کمال الدین صاحب۔حضرت میر قاسم علی صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی شامل ہوئے اہم شرائط ۱۷۳ مناظرہ یہ قرار پائیں۔(۱) مباحثہ نواب صاحب کی موجودگی میں ہو گا۔(۲) مباحثہ تحریری ہو گا۔اور پر چے فریقین کے میر مجلسوں کے دستخطوں سے مصدق ہو کر فریقین کو دئے جائیں گے۔(۳) استدلال صرف قرآن کریم اور سنت صحیحہ مثبتہ سے علی منہاج النبوۃ ہو گا۔مولوی ثناء اللہ صاحب فریق مخالف کے نمائندہ تھے اور احمدیوں کی طرف سے میر قاسم علی صاحب اور حضرت سید محمد احسن صاحب بطور مناظر پیش ہوئے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح کی وفات کے دلائل دیئے نیز ثابت کیا کہ خاتم النبین کا لفظ محل مدح پر آیا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ آپ کی بعثت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو کوئی ایسا نیا حکم لائے جو کتاب اللہ اور سنت صحیحہ میں نہ ہو یا نعوذ باللہ کسی حکم منصوص کو منسوخ کر دے کیونکہ آنحضرت کمالات نبوت کے انتہائی نقطہ پر ہیں جہاں تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہیں۔اسی طرح انہوں نے اپنی بحث میں بتایا حضرت مسیح موعود کا دعوئی برحق ہے۔اور آپ کے الهامات منجانب اللہ ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہر علم سے بعض اوقات اجتمادی غلطی واقع ہو سکتی ہے۔اور آپ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔افسوس نواب صاحب رام پور جو اس مباحثہ کے داعی و محرک تھے پہلے دن ہی غیر جانبدار نہ رہے اور دوسرے دن تو کھلم کھلا مولوی ثناء اللہ صاحب کی پشت پناہی کرنے لگے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے ۲۰/ جون ۱۹۰۹ء کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا۔” ہماری بحث کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتے اور نہ اسے سنتے ہیں پہلے دن بھی اور کل بھی جب ہماری تحریر ہوتی ہے تو لوگوں سے باتوں میں مشغول رہتے ہیں اور جب ہمیں یا ہمارے امام کو برا کہا جاتا ہے تو اس سے نواب صاحب کو رنج نہیں پہنچتا۔بلکہ جس طرح فریق مخالف استہزاء کر کے خوش ہوتا ہے۔اسی طرح نواب صاحب بھی