تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 301 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 301

تاریخ احمدیت جلد ۳ 293 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک اس کے بعد اگرچہ مولانا غلام حسن خاں تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی بیعت کر کے مبایعین میں شامل ہو گئے۔مگر بات معقول تھی۔اس لئے ان کے ساتھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ مولفان "مجاہد کبیر " کا کہنا ہے۔افسوس۔۔۔اس سیدھے سارے معاملہ کو مولانا محمد علی صاحب کے خلاف باتیں بنانے کے لئے ایک آسان ذریعہ سمجھ لیا گیا۔اور در پردہ پروپیگنڈا اور مسلسل چہ میگوئیاں کی گئیں اور اس بات کو ایک ایسا رنگ دیا جاتا رہا کہ خدا جانے مولانا محمد علی صاحب انجمن سے کیا کیا نا جائز طور پر لے کر کھا گئے"۔" یہ مخالفت اندر ہی اندر چل رہی تھی کہ ۱۹۵۱ء میں مولوی صاحب نے انجمن کے جنرل سیکرٹری سے گٹھ جوڑ کر کے در پردہ ایک ہولی قرآن ٹرسٹ قائم کر لیا۔جس میں اپنے تئیں حنفی المذہب " قرار دیا۔بورڈ آف ٹرسٹیز میں اپنے علاوہ اپنی اہلیہ (مر النساء بیگم صاحبہ) اپنے برادر نسبتی (مسٹر نصیر احمد فاروقی یکے از مولفان مجاہد کبیر) اپنے ایک فرزند ( محمد احمد صاحب ایم۔اے یکے از مولفان مجاہد کبیر) ایک بھتیجا (میاں رحیم بخش صاحب) اور ایک عزیز ( فضل احمد صاحب پسر جناب میاں محمد صاحب پریمیر فلور مل لائل پور) کو شامل کیا۔ٹرسٹ کی رجسٹری کے بعد جب اصل کار روائی منظر عام پر آئی تو ان کے رفقاء میں سخت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی چنانچہ ان کی بیگم صاحبہ کا بیان ہے۔" مفسدوں نے مخالفت کا طوفان برپا کر دیا اور طرح طرح کے بیہودہ الزام لگائے یہاں تک بکو اس کی کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انجمن HD کا مال غضب کر لیا ہے"۔ES خلاصہ یہ کہ جماعت احمدیہ کے مخصوص علم کلام اور نقطہ نگاہ سے قوم جس ترجمتہ القرآن کی مدت سے امیدیں لگائی بیٹھی تھی اور جس کے لئے اس کا ہزاروں روپیہ صرف ہواوہ مولوی محمد علی صاحب شائع نہ کر سکے۔اور خدا نے اس کی توفیق خلافت ثانیہ کے عہد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مولوی شیر علی صاحب خان بهادر ابو الهاشم خان صاحب اور ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کو دی۔کہ ان کی مجموعی کوششوں سے ایک مکمل اور مستند ترجمہ قرآن مجید انگریزی شائع ہوا اور خلافت ثانیہ میں نہ صرف انگریزی ترجمہ ہی مکمل رنگ میں اشاعت پذیر ہوا۔بلکہ سواحیلی ڈچ اور جرمن وغیرہ زبانوں میں بھی شائع ہوئے علاوہ ازیں روی، فرانسیسی ، اطالوی ، پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں میں تراجم کے مسودات بھی مکمل ہو چکے ہیں۔