تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 300
ریخ احمدیت - جلد ۳ 292 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک "پیغام صلح صاف لفظوں میں لکھتا ہے :۔۱۹۱۴ء میں حضرت مولانا نور الدین صاحب وفات پاگئے اور اختلاف سلسلہ کا حادثہ رونما ہوا۔اس کے بعد حضرت امیر حالات کی مجبوری کی وجہ سے ترجمہ قرآن کے مسودات کو لے کر لاہور تشریف لے آئے اور یہی وہ ایک متاع تھی جو ہمارے بزرگ قادیان سے اپنے ساتھ لاہور لائے۔ترجمہ اور حواشی کا باقی کام لاہور میں تکمیل کو پہنچا۔اور اس کے بعد سارے مسودہ پر نظر ثانی کی گئی۔مسودہ کو ایک دفعہ پہلے ٹائپ ہو چکا تھا لیکن نظر ثانی کے بعد پھر ٹائپ کرایا گیا اور ۱۹۱۶ء میں یہ طباعت کے لئے بالکل مکمل ہو گیا۔BA مولوی محمد علی صاحب نے ترجمہ کی تکمیل پر کتا ہیں تو واپس نہ کیں البتہ اس مرحلہ پر جب کہ مسودہ میں کافی رد و بدل کیا جا چکا تھا انہوں نے قادیان لکھا کہ میں نے ترجمہ مکمل کر لیا ہے اس کی طباعت کے نصف اخراجات اگر دے دئے جائیں تو اس کی آدھی کا پیاں آپ کو دے دی جائیں گی۔مگر جب مولوی محمد علی صاحب اس میں اپنی ذاتی رائے اور اقتضاء کے مطابق ترمیم و تنسیخ کر چکے تھے تو اس کو جماعتی سطح پر شائع کرنے کا مطالبہ ہی مضحکہ خیز تھا اس لئے اسے رد کر دیا گیا۔قصہ کو تاہ یہ مسودہ طباعت کے لئے مولوی صدر الدین صاحب کے پاس ود کنگ (انگلستان) بھیج دیا گیا۔متن کی کتابت لاہور میں ہوئی اور بلاک ولایت ہی میں بنے اور غالبا ۱۹۱۸ ء کے ابتداء میں اس کا پہلا ایڈیشن یہاں پہنچا۔اور ہا تھوں ہاتھ بکا۔اور مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا۔اور یہی توقع تھی کیونکہ جس غیر احمدی پبلک سے اس کی اشاعت کے لئے چندہ وصول کیا گیا تھا اس کے ذوق و مزاج کے مطابق اس میں رد و بدل ہو چکا تھا اور ترجمہ کرنے والے مسلمانوں میں سے ایک عمدہ انگریزی دان تھے۔اور دوسری طرف کسی مسلمان عالم کا انگریزی ترجمہ ان کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔۱۹۱۸ء میں یہ ترجمہ شائع ہوا اور مولوی محمد علی صاحب کو ۱۹۱۹ء سے انجمن اشاعت اسلام لاہور سے اس کا حق تصنیف وصول ہونا شروع ہو گیا۔مئی ۱۹۲۵ء میں خواجہ صاحب کی تجویز پر ان کے حق تصنیف کی شرح دگنی کر دی گئی۔HD اس پر خود ان کے ساتھیوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔۱۹۳۷ء میں مولانا غلام حسن خان صاحب نے (جو اس وقت انجمن اشاعت اسلام کے سرگرم ممبرادر چوٹی کے لیڈر تھے) اعتراضات سے بھرا ہوا ایک لمبا خط لکھا کہ "مولوی صاحب کا انگریزی ترجمتہ القرآن جو انہوں نے بطور اجیر انجمن سے اجرت لے کر کیا ہے وہ چند آدمیوں نے باضابطہ مولوی صاحب کو تملیک کر دیا ہے۔جو کسی طرح جائز نہ تھا۔مولوی صاحب کا اس کو لے لینا تقویٰ کے خلاف تھا۔