تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 253 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 253

تاریخ احمدیت جلد ۳ 245 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر نہیں پہنچا تا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالٰی اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتا ہے۔اور جو آسمان سے اترا۔وہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔سواے وے لوگو! جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک و شبہات کے پنجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو صرف اسمی اور رسمی اسلام پر ناز مت کرو۔اور اپنی کچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی انہی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں کے ذریعہ کی جاتی ہیں یہ اشغال بنیادی طور پر فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصور ہو سکتے ہیں۔مگر اصل مدعا سے بہت دور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں A انجمنوں کے وجود کو محض ایک ابتدائی زینہ قرار دعوی کو پیش کرنے کی ضرورت دیا وہاں اسلام کی ترقی و سر بلندی کو اپنے وجود سے وابستہ یقین کرتے ہوئے بار بار اپنے دعوئی اور دلائل کو پیش فرمایا۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک دفعہ یہ اعتراض بھی ہوا کہ حضور جو کچھ لکھتے ہیں بس اپنے لئے اور اپنے دعوئی کے لئے ہی لکھتے ہیں۔اسلام کے لئے کچھ کام نہیں کرتے۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں جو مفصل تقریر فرمائی اس کا ملخص مولوی محمد علی صاحب کے الفاظ میں یہ تھا۔"یہ اعتراض تو صرف ہم پر نہیں آتا۔ہمارے سلسلہ نبوت پر آتا ہے۔ہر نبی جو آیا پہلے اپنے آپ کو ہی منوا تا رہا۔سب نے یہی کہا۔کہ اطیعون۔میری پیروی کرو۔تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام نبی بھی اپنے لئے یہ سب مصیبتیں اٹھاتے تھے۔بلکہ یہ کم نمی ہے۔۔۔۔۔۔بر هموؤں نے بھی یہ اعتراض کیا ہے کہ لا الہ الا اللہ تو ہو انگر یہ ساتھ محمد رسول اللہ کیا لگا دیا ہے۔فرمایا۔ہم خود کیا ہیں۔ہم زمین پر حجتہ اللہ ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے مجسم نشان ہیں۔مگر کس کام کے لئے صرف اسلام کے لئے۔اور پیغمبر اسلام کی خدمت کے لئے۔اور اللہ تعالیٰ کے بچے دین کی تائید کے لئے۔ہماری سب کارروائیاں اسلام کی خاطر ہیں نہ اپنی ذات کے لئے۔پھر فرمایا۔کہ اس کے علاوہ ان لوگوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہم دن رات جو دوسرے ادیان کی بطلان کی فکر میں ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے کیا ہم نصیبین یا کشمیر آدمی اس لئے بھیجتے ہیں کہ ہماری بڑائی ہو یا دین اسلام کی حقانیت روشن ہو " ایڈیٹر اخبار "وطن" سے گٹھ جوڑ یہ اصحاب حضرت مسیح موعود کے اس وضاحتی بیان کو 14 آہستہ آہستہ اپنی افتاد طبع کے باعث نظر انداز کرتے گئے حتی کہ آخر ۱۹۰۵ ء میں خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے زیر اثر مولوی محمد علی صاحب نے اخبار وطن سے از خود یہ معاہدہ کر لیا کہ وہ ریویو آف ریلیجز سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے