تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 254 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 254

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 246 ختنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر مخصوص علم کلام اور دعاوی کو الگ رکھیں گے اور خاص مضامین جو سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں علیحدہ ضمیمہ کی صورت میں شائع کریں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر سخت خفگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ مجھے چھوڑ کر کیا تم مردہ اسلام پیش کرو گے۔جس پر ان کو مجبوراً اپنا ارادہ چھوڑ دینا پڑا۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب خود لکھتے ہیں۔اس تحریک میں میرا حصہ خواجہ صاحب سے کسی طرح کم نہ تھا۔فرض کر لو یہ ایک غلطی تھی۔حالانکہ اصل بات یہ ہے (؟) کہ پہلی تحریک بھی حضرت صاحب کے علم میں لا کر کی گئی تھی۔لیکن چونکہ بعد میں اس کے بعض پہلوؤں کی وجہ سے حضرت صاحب نے اسے ناپسند کیا۔اسے ترک کر دیا گیا"۔" فرض کر لو یہ ایک غلطی تھی" کا فقرہ صاف بتاتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک در اصل یہ کوئی غلطی نہ تھی مگر چونکہ حضرت اقدس نے اسے ناپسند کیا اسے ترک کر دیا گیا۔ڈاکٹر عبدالحکیم کے دلی خیالات کے دلی خیالات بعینہ میں نظریہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی کا تھا " چنانچہ وہ "الذکر الحکیم" میں لکھتا ہے۔”مولوی انشاء اللہ خاں صاحب ایڈیٹر الوطن کی تحریک پر مولوی محمد علی و خواجہ کمال الدین صاحبان وغیرہ نے یہ تجویز پاس کی اور شائع کی کہ ریویو آف ریلیجنز " قادیان میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور خاص مرزا صاحب کے متعلق ابحاث علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہوا کریں۔اس تجویز کی اشاعت سے میرا دل قدرے ٹھنڈا ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری جماعت میں عالی خیال اور عالی ظرف لوگ بھی ہیں اور اب یہ کام قرآنی رنگ میں خدائی آئین پر چلے گا۔اور ہمارا پیغام احسن اور بلغ صورت میں تمام دنیا کو پہنچے گا۔مگر وہ تمام خوشی خاک میں مل گئی جب کے مرزائیوں یا مرزا کے شیدائیوں نے اس تجویز کے خلاف شور مچانا شروع کیا اور وہ تجویز خاک میں مل گئی۔مولوی محمد علی صاحب کو مرزائیوں کا شور دبانے کی غرض سے اپنے اقرار اور عقائد شائع کرنے پڑے۔اناللہ واناالیه راجعون۔پھر ڈاکٹر عبدالحکیم نے اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا جس میں تحریر کیا۔میں چند امور کی طرف جو نہایت ضروری ہیں۔آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ امت محمدیہ میں جو لوگ ہماری تکذیب کرتے اور ہمیں صریحا کافر کہتے ہیں ان کے ساتھ تو بے شک نماز نہیں ہو سکتی۔مگر جو لوگ ہمیں صریحاً کافر نہیں کہتے ان تمام کو کافر نہ سمجھا جائے بلکہ حسن ظنی سے کام لیا جائے اور ان کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی اجازت دی جائے۔تاکہ ہماری تبلیغ آسان اور وسیع ہو سکے۔روم۔یہ کہ جو تجویز انشراح صدر اور عالی ظرفی سے مولوی محمد علی اور خواجہ کمال الدین صاحب