تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 252 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 252

تاریخ ا ت جلد 244 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے ان الہامات و کشوف کو لکھنے کے بعد جن میں انکار رفقاء کی سلسلہ میں شمولیت کا مقصد خلافت کے فتنہ کا پورا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے میں اس فتنہ کے پس منظر کی طرف آتا ہوں لیکن اس امر کو تفصیلا لکھنے سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جن کو دیوی شان و شوکت کا خیال ہے کہ محکمے ہوں۔دفاتر ہوں۔بڑی بڑے عمارتیں ہوں وغیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ ہیں جو کسی بڑے آدمی مثلاً حضرت مولوی نور الدین صاحب کے اثر کے نیچے آکر جماعت میں داخل ہو گئے ہیں اور انہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو خاص میری ذات سے تعلق ہے اور وہ ہر بات میں میری رضا اور میری خوشی کو مقدم رکھتے ہیں۔دا مقدم الذکر لوگوں کے متعلق (جو انجمن وغیرہ کے دلدادہ تھے) فرمایا کہ ان کا خطرہ ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے دوسرے رفقاء کا تعلق دراصل اسی پہلے گروہ سے تھا اوپر گوان کا سلسلہ سے وابستہ ہونا اخلاص و محبت کے تحت تھا۔اس لئے باوجود ان قومی خدمات کے جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سر انجام دیں ان کا ذاتی رجحان جمہوریت اور مغربیت سے متاثر ہونے کی وجہ سے زیادہ تر اس طرف تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصل مقصد بعثت یہ ہے کہ ایک کمیٹی اشاعت اسلام کی غرض سے قائم ہو جائے اور لوگوں سے چندہ لے کر قرآن مجید کا ترجمہ اور دوسرا اسلامی لٹریچر شائع ہو یا سکول کالج وغیرہ کھول دئے جائیں۔قرآن کا ترجمہ یا دوسرے اسلامی لٹریچر کی اشاعت یا سکولوں کا اجراء بلا شبہ بہت مبارک اور ضروری چیزیں تھیں مگر احمدیت کے قیام کا حقیقی مقصد جیسا کہ خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ کشف بتایا دنیا کے قائم شدہ پورے نظام حیات کو یکسر بدل کر ایک نئی زمین نیا آسمان اور نیا نظام قائم کرنا تھا۔اور ظاہر ہے کہ یہ غیر معمولی کام انجمنیں سرانجام نہیں دے سکتیں بلکہ آسمانی سلسلہ ہی کے ذریعہ پورا ہو سکتا ہے چنانچہ حضور علیہ السلام دعوئی مسیحیت کی سب سے پہلی تصنیف میں لکھتے ہیں۔" بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا ہی تائید کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیز کا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں۔اور کیونکر اور کن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں سوا نہیں جانا چاہئے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے۔جو تعلقات نفسانیہ سے چھڑا کر نجات کے سرچشمہ تک پہنچاتا ہے سو اس یقین کامل کی را ہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہرگز کھل نہیں سکتیں اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ فائدہ